میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اعمال کی دوسری قسم عبادات پر مشتمل ہے اور عبادات کا تعلق نِیّت سے دو طرح سے ہوتا ہے (۱) ان عبادتوں کا درست قرار پانا (۲) ان کی فضیلت کا بڑھ جانا ۔ بہر حال عبادت کی صحت کا دارومدار نِیّت پر ہوتا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ اس عبادت کامقصد صرف اور صرف رب (عزوجل) کی عباد ت ہو کسی غیر کی رضا حاصل کرنا مقصود نہ ہو کیونکہ اگر نِیّت ریا کاری کی ہوگی تو بجائے ثواب کے یہ عمل گناہ قرار پائے گا۔
جبکہ فضیلت میں اضافے کی صورت یہ ہے کہ اگر ایک عبادت میں ایک سے زائد اچھی نِیّتیں پائی جائیں تو ہر نِیّت کا الگ ثواب ملے گا کیونکہ ہر نِیّت اپنی جگہ ایک مستقل نیکی ہے اور ہر نیکی کا ثواب (کم از کم) دس گناہ بڑھتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے اسکی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی مسجد میں بیٹھتا ہے تو اسکا بیٹھنا ایک کار ثواب ہے اور ممکن ہے کہ وہ یہاں کئی دوسری اچھی نِیّتیں بھی کر لے حتی کہ اسے متقی لوگوں کی سی فضیلت حاصل ہو جائے اور وہ اسکے ذریعے مقرّبین کے درجے کو پہنچ جائے۔
(۱) پہلی نِیّت :
یہ کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس میں داخل ہونے والا اللہ تعالیٰ کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے تو یہ شخص اگر اللہ تعالیٰ کی زیارت کی نِیّت کرے اور اُس بات کی امید رکھے۔
جسے حضور ابد قرارشفیع روز شمار ہم بے کسوں کے طرفدار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا: