| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
دین پر دنیا کو اور آخرت پر خواہشات کو ترجیح دیتا ہو اور اپنی جہالت کی بناء پر اپنا یہ مذموم مقصد حاصل نہ کر سکتا ہو تو اسے علم مہیا کر کے اسکے اس مقصد میں کامیابی پر مدد فراہم کرنا کیونکر جائز ہوگا۔ بلکہ بزرگان دین (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) کا طریقہ تو یہ تھا کہ وہ اپنے ملنے جلنے والوں کے حالات کی تفتیش کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اگر کسی کو نوافل میں کوتاہی کرتا دیکھتے تو اس بات کو برا سمجھتے اور انکی تعظیم ترک کر دیتے اور اگر کسی گناہ یا حرام میں مبتلا دیکھتے تو ان سے فورًا قطع تعلق کر لیا کرتے تھے انہیں اپنی مجلس سے نکال دیا کرتے تھے۔ انہیں تعلیم دینا تو درکنار ان سے گفتگو تک نہ کرتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جوشخص دین کی کوئی بات سیکھ کر اس پر عمل نہیں کرتا بلکہ کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرتا ہے تو درحقیقت وہ اس علم کو برائی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہا ہے ۔
بدکار عالم سے اﷲ (عزوجل) کی پناہ :
میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ علمائے کرام(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) بد کار عالم سے پناہ طلب کیا کرتے تھے، بدکار جاہل سے نہیں'چنانچہ منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا امام احمد بن حنبل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی خدمت میں ایک شخص کئی سال تک آتا رہا ایک مرتبہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اس سے قطع تعلق کر لیا اور بول چال بند کر دی وہ شخص اس تبدیلی کے باعث بے چین ہو گیا اور بار بار آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے اسکا سبب دریافت کرتا رہا کئی بار پوچھنے پر بالآخر آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے ارشاد فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے اپنی دیوار کو سڑک کی جانب سے مٹی لگائی ہے اورقد آدم کے برابر وہاں سے مٹی لی ہے حالانکہ تمہاری دیوار مسلمانوں کے راستے کے کنارے پر ہے اورتمہاری اس حرکت سے عام مسلمان تکلیف میں مبتلا ہو سکتے ہیں لہٰذا تم علم سکھائے جانے کے قابل نہیں ہو ۔ پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے اسلاف (رحمہم اللہ تعالیٰ) علم کے طلبگاروں کی نگرانی میں کس قدر احتیاط فرمایا کرتے تھے لیکن اس قسم کی مثالیں بیوقوف اور شیطان کے پیرو کار وں پر مخفی رہتی ہیں خواہ انکا ظاہری حلیہ کتنا ہی عالمانہ ہو' زبان دراز مقرر ہوں، عمدہ لباس پہنتے اور بہت زیادہ علم رکھتے ہوں۔لیکن یہ علم دنیا سے کراہت اور آخرت کی ترغیب پر مشتمل نہ ہوبلکہ وہ اس علم کے ذریعے مال حرام جمع کرتے ہوں۔مخلوق کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرتے ، لوگوں کو اپنا گرویدہ بناتے اور اپنے ساتھیوں میں ممتاز بن کر رہتے ہوں۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے پیارے آقا ، سردار انبیاء (علیہ و علیہم الصلوٰۃ والسلام) کا یہ ارشاد گرامی (اعمال کا دارومدار نِیّتوں پر ہے)محض نیک اور جائز کاموں کے ساتھ مخصوص ہے گناہ کے ساتھ اسکا کوئی تعلق نہیں کیونکہ نِیّت اور ارادے کی خرابی کی وجہ سے نیکی گناہ میں تبدیل ہو جاتی ہے اور مباح کام نِیّت کی بناء پر گناہ اور عبادت دونوں کا احتمال رکھتا ہے لیکن گناہ