Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
258 - 325
ہوں کیونکہ تم کہو گے کہ میں ایک ہی وقت میں ایک ہی شخص سے نفرت و محبت کیسے کرسکتا ہوں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس موقع پر امام غزالی علیہ الرحمۃ ہماری رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ۔

میں کہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کے حق میں یہ باتیں ایک دوسرے کے خلاف نہیں جیسے بشری خصلتوں میں تناقض نہیں کیونکہ جب ایک آدمی میں کئی خصلتیں جمع ہو سکتی ہیں جن میں سے بعض پسندیدہ اور بعض مکروہ ہوں تو تم اس سے بعض اعتبارات سے محبت کرتے ہو اور بعض وجوہات کی بنا پر نفرت کرتے ہو جس طرح کسی آدمی کی خوبصورت لیکن بدکار بیوی ہو یا اس کا بیٹا سمجھدار اور خدمت گار ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ فاسق بھی ہو تو وہ بعض وجہ سے اس سے محبت کریگا اور بعض وجہ سے نفرت ۔اور اسی طرح ان دو حالتوں کے درمیان ایک تیسری حالت بھی ہوتی ہے مثلاً جب کسی کے تین بیٹے فرض کئے جائیں جن میں سے ایک سمجھ دار اور نیک ہو' دوسرا کُندذہن اور نافرمان ہو اور تیسرا کُندذہن لیکن نیک ہو یا سمجھ دار لیکن نافرمان ہو تو ان کے ساتھ اس کی تین مختلف حالتیں ہوں گی کیونکہ ان کی خصلتوں میں اختلاف ہے۔

اسی طرح جب کسی شخص پر گناہ اور نافرمانی غالب ہو' دوسرے پر فرمانبرداری غالب ہو اور جس میں دونوں باتیں ہوں تو تینوں کی نسبت سے حالت مختلف ہوگی۔ یعنی ہر صفت کو تم اس کا حصہ دوگے نفرت کی صورت میں ہو یا محبت کی صورت میں۔ اس کی طرف توجہ کرنے یا پیٹھ پھیرنے کی صورت میں' اس کی مجلس اختیار کرنے یا قطع تعلق کی صورت میں اور اسی طرح جو کام اس سے صادر ہوئے ہیں اس حساب سے اس کے ساتھ رویہ اختیار کیا جاتا ہے اگر تم کہو کہ ہر مسلمان کا اسلام' اطاعت ہی ہے' لہٰذا اس کے اسلام کے باوجود اس سے کس طرح نفرت کروں؟

تو میں کہتا ہوں کہ تم اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس سے محبت کرو اور گناہ کی وجہ سے اس سے نفرت کرو۔ یعنی تم اس کے ساتھ ایسی حالت میں رہو کہ اگر وہ شخص کافر ہوتا تو اب تمہارے احساسات اس کے بارے میں کیا ہوتے تو اب کیونکہ وہ شخص مسلمان ہے تو تم اس سے کافر والی نفرت نہ کرو۔اور یہ تفریق اسلام کی وجہ سے محبت اور اس کے حق کی ادائیگی ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ کے حق میں کوتا ہی اور اس کی اطاعت کو اس طرح سمجھو جس طرح تمہارے حق کو نقصان پہنچانا یا پورا کرنا ہے۔ یعنی جو شخص کسی کام میں تمہاری بات مانے اور دوسری بات میں تمہاری مخالفت کرے تو تم اس کے ساتھ ایک ایسی حالت میں رہتے ہو جو ناراضگی اور رضا مندی ' توجہ اور اعراض' محبت اور نفرت کے درمیان ہو اور اس کی عزت میں اس قدر مبالغہ نہیں کرتے جس طرح اُس کی عزت میں کرتے ہو جو تمہاری سب باتیں مانتا ہے اور اس کی توہین میں اس قدر مبالغہ نہیں کرتے جس طرح اس کی توہین کرتے ہو جو تمام امور میں تمہاری مخالفت کرتا ہے پھر اس درمیانے راستے میں جب جرم غالب آجائے تو توہین کی طرف میلان ہو جاتا ہے اور کبھی حسن سلوک اور اعزاز و اکرام کی طرف میلان ہو جاتا ہے جب