Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
257 - 325
روپڑے اور عرض کی کیا میں اپنے رب (عزوجل) سے ناراض ہوسکتا ہوں ؟ میں اپنے رب (عزوجل) سے راضی ہوں میں اپنے رب (عزوجل) سے راضی ہوں۔ (حلیۃ الاولیاء جلد ۷ ص ۱۰۵ ترجمہ ۳۸۷۰)

نتیجہ یہ ہوا کہ جو آدمی کسی عالم یا عابد سے محبت کرتا ہے یا کسی ایسے شخص سے محبت کرتا ہے جو علم یا عبادت یا کسی اچھے کام میں رغبت رکھتا ہے تو وہ اس سے اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہے اور اسے محبت کے مطابق اجرو ثواب ملے گا۔ تو یہ اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کی تشریح اور درجات ہیں اور اسی سے اﷲ تعالیٰ کے لئے کسی سے نفرت کرنے کا حکم بھی واضح ہوجاتا ہے لیکن ہم اسے الگ بیان کرتے ہیں۔
اﷲ (عزوجل) کے لئے کسی سے دشمنی کرنا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جان لو کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے لئے دشمنی بھی رکھے کیونکہ جب تم کسی شخص سے اس لئے محبت کرتے ہو کہ وہ اﷲ تعالیٰ کا اطاعت گزار بندہ ہے اور اﷲ تعالیٰ کا محبوب ہے تو اگر کوئی اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو ضروری ہے کہ تم اس سے نفرت کرو اس لئے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کا نافرمان ہے اور اس پر اﷲ تعالیٰ کا غضب ہے اور جو آدمی کسی سبب سے محبت کرتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اس سبب کی ضِد کے باعث نفرت کرے یہ دونوں ایک دوسرے کو لازم ہیں جدا نہیں ہوتے۔ اور معاشرے میں محبت ونفرت کے سلسلے میں یہ معروف اور رائج ہے لیکن محبت اور بغض دونوں دل کی خفیہ کیفیتیں ہیں اور غلبہ کے وقت ظاہر ہوتی ہیں اور جب محبت کرنے والوں کی طرف سے قرب وموافقت کے اعمال اور نفرت کرنے والوں کی طرف سے دوری اور مخالفت کے اعمال ظاہر ہوتے ہیں تو یہ سامنے آتی ہیں جب یہ فعل کی صورت میں سامنے آئیں تو (محبت کو) مُوالاۃ اور (دشمنی کو) مُعادات کہا جاتا ہے اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا حدیث میں ہے۔
ھَلْ وَالَیْتَ فِیَّ وَلِیًّا وَھَلْ عَارَیْتَ فِیَّ عَدُوًّا۔
ترجمہ ''کیا تم نے میرے لئے میرے ولی سے دوستی کی اور میرے لئے میرے دشمن کو دشمن سمجھا''

ایک مشکل : 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ بات اس شخص کے بارے میں تو واضح ہے جس کی نیکیاں ظاہر ہوں تو ظاہر ہے کہ تم اس سے محبت کروگے اوراس شخص کے بارے میں بھی بات بلکل صاف ہے کہ جس کا فسق وفجور اور بد اخلاقی ظاہر ہو تو سیدھی سی بات ہے کہ تم اس سے دشمنی پر قادر ہوگے البتہ مشکل اس وقت ہوگی جب کسی شخص میں عبادات اور گناہ دونوں پائے جاتے
Flag Counter