''اور جب زخم میں تمہاری رضا ہو تو اس سے تکلیف نہیں پہنچتی''
البتہ بعض اوقات محبت کی وجہ سے کسی خواہش کو چھوڑا جاتا ہے اور کسی کو نہیں جیسے کوئی شخص اپنے محبوب کو اپنے مال کے نصف یا تہائی یا دسویں حصے میں شریک کرتا ہے تو مالوں کی مقدار' محبت کے ترازو ہیں۔ کیونکہ محبوب کے درجہ کا پتہ اس محبوب چیز سے معلوم ہوتا ہے جسے اس کے مقابلے میں چھوڑ دیا جاتا ہے پس جس شخص کا دل مکمل طور پر کسی کی محبت کے سمندر میں غوطہ زن ہو اس کے لئے اس کے علاوہ کوئی محبوب باقی نہیں رہتا' اس لئے وہ اپنے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑتا۔ جیسے حضرت سیدنا صدیق اکبر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اپنے لئے اپنے اہل ومال میں سے کچھ نہ چھوڑا اپنی صاحبزادی جو آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کیآنکھوں کی ٹھنڈک تھیں' سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نکاح میں دے دیں اور اپنا تمام مال بھی خرچ کردیا۔
مقام غور :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مقامِ غور ہے کہ حضور سیدِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اﷲ (عزوجل) کے محبوب ہیں تو اب جو کچھ اﷲ (عزوجل) نے اپنے محبوب (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم)کو عطا فرمایا ہے اس کا اندازہ کرنا عقلِ انسانی سے باہر ہے۔
چنانچہ امام ِ احمد رضا خان (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کیا خوب ارشاد فرماتے ہیں۔
وہ خلد جس میں اترے گی ابرار کی بارات ادنیٰ نچھاور اس مرے دولہا کے سر کی ہے
اتنا عجب بلندي جنت پہ کس لئے دیکھا نہیں کہ بھیک بھی کسی اونچے گھر کی ہے
بہرحال حضرت سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلي اللہ تعالي عليہ وسلم تشریف فرما تھے اور آپ ا کے پاس حضرت صدیق اکبر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) بیٹھے ہوئے تھے ان پر ایک کمبل تھا جس کے دونوں پہلوؤں کو سینے پر ایک کانٹے (وغیرہ) سے ملا رکھا تھا کہ حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے سلام پیش کیا اور عرض کیا یا رسول اﷲ(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) ! کیا وجہ ہے کہ میں حضرت صدیق اکبر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) پر ایسا کمبل دیکھتا ہوں جسے کانٹے کے ذریعے جوڑ رکھا ہے ؟ آپ ا نے فرمایا انہوں نے اپنا مال فتح سے پہلے مجھ پر خرچ کردیا ہے۔ انہوں نے عرض کی آپ ا انہیں میری طرف سے سلام ارشاد فرمائیں اور ان سے فرمائیں کہ آپ کا رب (عزوجل) آپ سے پوچھتا ہے کہ کیا تم اس فقر میں مجھ سے راضی ہویا ناراض ؟ راوی فرماتے ہیں نبی اکرم (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) حضرت صدیق اکبر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔
اے ابوبکر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا تم اس فقر کی حالت میں مجھ سے راضی ہو یا ناراض ؟ راوی فرماتے ہیں (یہ سن کر) حضرت ابوبکر صدیق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)