Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
255 - 325
ہوتا ہے جو انسان کو اﷲ تعالیٰ سے ہوتی ہے وہ کمزور ہو یا قوی۔ چنانچہ اگر وہ لوگ غائب بھی ہوں تب بھی یہ میلان پایا جاتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اسے ان دونوں سے نہ بھلائی پہنچ سکتی ہے اور نہ برائی نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں پھر بھی وہ عالم اور عابد سے محبت کرتا ہے ۔ یہ وہ محبت ہے جو خالصتاً اﷲ تعالیٰ کے لئے ہوتی ہے اور اس میں کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وہ اس شخص سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اس لئے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کا پسندیدہ بندہ ہے ۔نیز اس لئے بھی کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے البتہ جب یہ میلان کمزور ہو تو اس کا اثر ظاہر نہیں ہوتا چنانچہ اس کے ثواب واجر کا ظہور بھی نہیں ہوتا اور جب تعلق مضبوط ہوتا ہے تو وہ اسے دوستی اور مال' جان اور زبان سے اس کی مدد پر ابھارتا ہے اور اس سلسلے میں بھی مختلف لوگوں کے درمیان درجوں کا اختلاف اسی طرح پایا جاتا ہے جس طرح محبت خداوندی میں لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اگر محبت صرف اسی وجہ سے کی جاتی کہ محبوب سے فی الحال یا مستقبل میں کچھ حصہ ملے گا توفوت شدہ علماء اور عبادت گزاربندوں نیز صحابہ کرام' تابعین ث بلکہ انبیاء کرام (علیہم السلام) سے محبت کا کوئی تصور نہ ہوتا۔ حالانکہ ہر دین دار مسلمان کے دل میں ان لوگوں کی محبت موجزن ہوتی ہے اور جب کوئی دشمن ان پاکیزہ شخصیات میں سے کسی کے خلاف زبانِ طعن دراز کرتا ہے تو اس وقت غصے کی حالت میں یہ محبت ظاہر ہوتی ہے اور جب کوئی شخص ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے تو یہ محبت خوشی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ 

اسی طرح جب ان کی خوبیوں کا ذکر ہوتا ہے اس وقت بھی مسلمان خوش ہوتے ہیں۔ اور یہ سب اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کہلاتی ہے کیونکہ یہ اﷲ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اور جو آدمی کسی بادشاہ یا خوبصورت آدمی سے محبت کرتا ہے تو اس کے خاص افراد خدمت گاروں بلکہ وہ سب جن جن سے محبوب محبت کرتا ہے' یہ بھی ان سب سے محبت کرتا ہے لیکن محبت کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب نفسانی مفادات سے مقابلہ ہو' اور بعض اوقات یہ محبت غالب ہوجاتی ہے کہ نفس کے لئے صرف وہی حصہ باقی رہتا ہے جو محبوب کا حصہ ہے ۔

ایک شاعر نے اسے یوں بیان کیا ہے۔
اُرِیْدُ وِصَالَہ' وَیُرِیْدُ ھِجْرِیْ		فَاَتْرُکُ مَا اُرِیْدُ لِمَا یُرِیْدُ
''میں اس (محبوب) کا وصال چاہتا ہوں اور وہ مجھ سے جدائی کا ارادہ کرتا ہے تو میں اس کے ارادے کی خاطر اپنے ارادے کو چھوڑ دیتا ہوں''

اور کسی دوسرے شخص نے یوں کہا۔
Flag Counter