| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
کی قدرت کے آثار ہیں۔ اور جو شخص کسی انسان سے محبت کرتا ہے وہ اس کی صنعت ' کتابت اور تمام افعال سے محبت کرتا ہے اسی لئے نبی اکرم کے پاس جب کوئی نیا پھل لایا جاتا ہے تو آپ ا اسے آنکھوں سے لگاتے 'اس کی عزت کرتے اور فرماتے اس کا زمانہ ہمارے رب کے قریب ہے۔ (سنن الدارمی جلد ۲ ص ۳۲ حدیث ۲۰۷۸) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اﷲ تعالیٰ کی محبت بعض اوقات اس کی گزشتہ عنایات اور طرح طرح کی نعمتوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور کبھی اس کی ذات کی وجہ سے ہوتی ہے کوئی دوسری بات پیش نظر نہیں ہوتی۔ اور یہ محبت سب قسم کی محبتوں سے زیادہ گہری اور اعلیٰ ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی محبت جس صورت میں بھی ہو جب وہ مضبوط ہوتی ہے تو ہر اس چیز تک پہنچ جاتی ہے کہ جسے اﷲ تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کا بھی تعلق ہوتا ہے حتی کہ اس چیز تک بھی پہنچتی ہے جو ذاتی طور پر تکلیف دہ اور ناپسندیدہ ہوتی ہے لیکن محبت کی فراوانی تکلیف کے احساس کو کمزور کردیتی ہے اور محبوب کے عمل کی خوشی اور اس کا ارادہ اگرچہ تکلیف کے ساتھ ہی ہو تکلیف کے احساس کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اور یہ اس طرح ہے جیسے محبوب کے مارنے یا چٹکی بھرنے سے اگرچہ وہ سزا کے طور پر ہو خوشی ہوتی ہے کیونکہ محبت کی قوت ایسی خوشی پیدا کرتی ہے جس سے تکلیف کا احساس کم ہوجاتا ہے۔
تکلیف و نعمت کا فرق :
چنانچہ مروی ہے کہ ایک جماعت اﷲ تعالیٰ کی محبت میں انتہا کو پہنچ گئی اور انہوں نے کہا کہ ہم تکلیف اور نعمت میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے کیونکہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ہم اسی بات پر خوش ہوتے ہیں جس میں اس کی رضا ہوتی ہے حتیٰ کہ کسی بزرگ رحمہ اﷲ نے یوں کہا کہ اگرمجھے یہ یقین ہو کہ اﷲ تعالیٰ مجھے ضرور بخش دے گاتو میں تب بھی اس کی نافرمانی پسند نہ کرو۔ ایک مرتبہ حضرت سیدنا سمنون (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے عرض کی اے اﷲ مجھے تیرے سوا کچھ بھی نہیں چاہئے تو جس طرح چاہے مجھے آزمالے۔ مقصود یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے محبت میں جب قوت پیدا ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں ہر اس شخص سے محبت ہوجاتی ہے جو علم یا عمل کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کے حق کو قائم کرتا ہے اور ہر اس آدمی سے محبت ہوجاتی ہے جس میں اچھے اخلاق یا آداب شرع جیسی پسندیدہ صفات پائی جاتی ہیں۔ جو شخص آخرت سے محبت کرتا اور اﷲ تعالیٰ کا محب ہے جب اسے دو قسم کے آدمیوں یعنی ایک عالم عابد اور دوسرے جاہل فاسق کی حالت بتائی جائے تو اس کا قلبی جھکاؤ عالم و عابد کی طرف ہوتا ہے ۔ پھر ایمان کی مضبوطی اور کمزوری کے اعتبار سے یہ میلان بھی کمزور یا مضبوط ہوتا رہتا ہے نیز اس محبت کے مطابق