| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
غرض کے بڑھنے سے محبت بھی بڑھتی ہے اور دنیاوی اور اخری اغراض کا جمع ہونا محال نہیں ہے چنانچہ یہ سب اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت میں داخل ہیں اسی طرح محبت میں جو اضافہ ہوگا اگر ایمان نہ ہوتا تو یہ اضافہ نہ ہوتا تو اضافہ بھی اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت قرار پاتا ہے تو اگرچہ یہ دقیق ہے مگر کمیاب ہے۔
چوتھی قسم :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اس قسم کی محبت صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے اور محض اسی کی خاطر ہوتی ہے نہ تو علم و عمل کا حصول مقصود ہوتا ہے اور نہ رب (عزوجل) کی ذات کے علاوہ کسی اور تک پہنچنا مقصود ہوتاہے اور یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے جو سب سے گہرا اور مشکل ہے۔ اور یہ قسم بھی ممکن ہے کیونکہ غلبہ محبت کے آثار یہ ہیں کہ محبوب سے آگے بڑھ کر ہر اس چیز تک پہنچے جو محبوب سے تعلق رکھتی ہے اور اس سے کسی نہ کسی طرح مناسبت رکھتی ہے اگرچہ یہ تعلق دور ہی کا ہو کیونکہ جو آدمی کسی شخص سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے تو وہ اس انسان کے محب سے بھی محبت کرتا ہے اور اس کے محبوب سے بھی' بلکہ اس کے خدام سے بھی محبت کرتا ہے اسی طرح اس آدمی سے بھی محبت کرتا ہے جو اس کے محبوب کی تعریف کرے نیز جو چیز اس کے محبوب کی رضا کا باعث بنے اس سے بھی محبت کرتا ہے حتی کہ بقیہ بن ولید نے کہا :
کتے سے محبت :
جب مومن کسی دوسرے مومن سے محبت کرتا ہے تو اس کے کتے سے بھی محبت کرتا ہے ۔ اور واقعی یہی بات ہے عاشق لوگوں کے حالات کا تجربہ اس بات پر گواہ ہے نیز شعراء کے اشعار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں اسی لئے وہ اپنے محبوب کے کپڑوں اور موزوں کی حفاظت کرتا ہے اور اس کو یاد گار بناتا ہے محبوب کے مکان' محلے اور پڑوسیوں تک سے محبت کی جاتی ہے حتی کہ مجنون بن عامر نے کہا۔ میں' لیلیٰ کے علاقے سے گزرتا ہوں تو دیواروں کو بوسے دیتا ہوں اس علاقے کی الفت سے میرا دل نہیں تڑپتا بلکہ میں اُس محبوب کی محبت میں ایسا کرتا ہوں جووہاں رہتا ہے ۔ تو مشاہدہ اور تجربہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ محبت' محبوب کی ذات سے بڑھ کر اس کے اردگرد کی اشیاء اور جو کچھ اُس سے تعلق رکھتا ہے' سب تک پہنچ جاتی ہے نیز جن جن کو اس سے مناسبت ہوتی ہے اگرچہ دور کا تعلق ہو وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ محبت کی زیادتی کانتیجہ ہے اسی طرح اﷲ تعالیٰ کی محبت جب دل پر غالب آجاتی ہے اور فریفتگی وشیفتگی کی حد تک پہنچ جاتی ہے تو وہ اس کے علاوہ تمام موجودات تک پھیلتی ہے کیونکہ ذاتِ خداوندی کے علاوہ جو کچھ ہے وہ سب اس