میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !خلاصہ یہ کہ جب آخرت میں سعادت کا حصول' اﷲ تعالیٰ کی محبت کے خلاف نہیں تو دنیا میں سلامتی' صحت' کفالت اور کرامت ،محبتِ خداوندی کے منافی کیسے ہوگی۔ دنیا اور آخرت دراصل دو حالتوں کا نام ہے البتہ ان میں سے ایک یعنی دنیا دوسری کی نسبت قریب ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انسان آئندہ کل کے فوائد کو توپسند کرے لیکن آج انھیں پسند نہ کرے۔
البتہ دنیاوی فوائد کی دو قسمیں ہیں :
ایک وہ جو آخرت کے حصول کی خلاف ہیں اور ان کے لئے رکاوٹ ہیں اور یہ وہی ہیں جن سے انبیاء کرام علیہم السلام نے اجتناب کیا اور پرہیز کرنے کا حکم دیا۔
اور دوسری قسم وہ ہے جو آخرت کے منافی نہیں ہیں اور یہ وہ ہیں جن سے ممانعت نہیں ہے جیسے نکاحِ صحیح اور حلال کھانا وغیرہ۔
تو جو باتیں آخرت کے خلاف ہیں عقل مند آدمی پر لازم ہے کہ انہیں ناپسند کرے' ان سے محبت نہ کرے یعنی عقل و شعور کے ساتھ ناپسند کرے طبعی طور پر نہیں جیسے کسی بادشاہ کی ملکیت سے لذیذ کھانے اسکی اجازت کے بغیر کھانا جب کہ اسے معلوم ہو کہ کھانے کی صورت میں ہاتھ یا گردن کاٹ دی جائے گی تواسکایہ مطلب نہیں کہ وہ طبعی طور پر لذیذ کھانے کو پسند نہیں کرتا اور اگر کھائے گا تو اسے لذت حاصل نہ ہوگی کیونکہ یہ محال ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عقل اسے اس اقدام سے روکتی ہے۔ اور اس ناپسندیدگی کی وجہ وہ نقصان ہے جو اس سے متعلق ہے۔
بہرحال اس بات کا مقصد یہ ہے کہ اگر شاگرد اپنے استاذ سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ اس کی خیر خواہی کرتا اور اسے تعلیم دیتا ہے یا استاذ اپنے شاگرد سے اس لئے محبت کرے کہ وہ اس سے سیکھتا اور اس کی خدمت کرتا ہے اور ان میں سے ایک فوری فائدہ ہے جب کہ دوسرا اخروی ہے۔ تو یہ اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرنے والوں میں شمار ہوں گے ۔ لیکن اس کے لئے ایک شرط ہے وہ یہ کہ اگراستاذاسے علم سے منع کردے یا اس سے علم حاصل کرناشاگرد کے لئے مشکل ہوجائے تو اس وجہ سے اس کی محبت کم ہوجائے ۔تو جس بات کے نہ پائے جانے کی وجہ سے اس کی محبت کم ہوئی وہ اﷲ تعالیٰ کے لئے ہے۔ اور اسے اسی کمی کے مطابق اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کا ثواب ملے گا اور اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تم کسی انسان سے اپنی ان اغراض کی بنیاد پر محبت کرو جو اس سے متعلق ہیں اگر بعض مقاصد نہ پورے ہوں تو تمہاری محبت بھی کم ہوجائے گی اور زیادہ ہوجائیں تو وہ بھی بڑھ جائے گی۔ اور تم جس قدر سونے سے محبت کرتے ہو چاندی سے اس قدر نہیں ہوتی اگرچہ دونوں کی مقدار برابر ہو کیونکہ سونا جن مقاصد تک پہنچاتا ہے وہ اس سے زیادہ ہیں جو چاندی سے حاصل ہوتے ہیں تو اس صورت میں