| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
جاسکے تو اگر کوئی کسی سے اس وجہ سے محبت کرے کہ ُاس میں دونوں باتوں کی صلاحیت ہے تو یہ محبت بھی اﷲ تعالیٰ کے لئے ہوگی جیسا کہ کوئی شاگرد اپنے استاذ سے محبت کرتا ہے جو اسے دین بھی سکھاتا ہے اور مالی امداد کے ذریعے اس کے دنیاوی کاموں میں بھی کفایت کرتا ہے توچونکہ اس (شاگرد) کی طبیعت میں دینوی راحت اور سعادت آخرت دونوں کی طلب ہے اور یہ (استاذ) ان دونوں باتوں تک پہنچانے کا وسیلہ ہے اس لئے وہ استاذ سے محبت کرتا تویہ بھی اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرنا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنے کے لئے یہ شرط نہیں کہ دینوی فائدہ پر بالکل محبت نہ کرے کیونکہ انبیاء کرائم علیہم السلام کو جس دعا کا حکم دیا گیا ہے اس میں دنیا اور آخرت دونوں کو جمع کیا گیا جیسے یہ دعا ہے۔ ''اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا سے بھلائی اور آخرت سے بھلائی عطا فرما'' حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعا میں یوں کہا۔
اَللَّھُمَّ لاَتُشْمِتْ بِیٖ عَدُوِّیْ وَلاَ تَسْوُء بِیْ صَدِیْقِیْ وَلاَتَجْعَلْ مُصِیْبَتِیْ لِدِیْنِیْ وَ لاَ تَجْعَل الدُّنْیَا اَکْبَرَ ھَمِّیْ۔
''اے اﷲ ! میرے دشمن کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور میری وجہ سے میرے دوست کو برائی نہ پہنچا' میرے دین کے لئے کسی مصیبت کا فیصلہ نہ کرنا اوردنیا کو میرا سب سے اہم مقصدنہ بنانا'' تو دشمن کی ہنسی اور تمسخر کو دور کرنا دنیوی امور میں سے ہے اور آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ دنیا کو میرا مقصد بالکل نہ بنانا بلکہ فرمایا کہ اسے میرا سب سے بڑا مقصد نہ بنانا۔ نیزنبی اکرم نورِ مجسم (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے یوں دعا مانگی۔
اَلَّلھُمَّ اِّنْیِ اَسْئَالُکَ رَحْمَۃً اَنَالُ بِھَا شَرَفَ کَرَامَتِکَ فِی الدُّیْنَا وَالاْٰخِرَۃِ۔
(جامع ترمذی ص ۴۹۲ ابواب الدعوات) ''یا اﷲ ! میں تجھ سے ایسی رحمت کا سوال کرتا ہوں جس کے ذریعے دنیا اور آخرت میں تیری کرامت کا شرف حاصل کرسکوں'' نیز آپ (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم)نے یوں بھی دعا فرمائی۔
اَللَّھُمَّ عَافِنِیْ مِن بَلَاءِ الدُّنْیَا وَبَلاَءِ الْآخِرَۃِ۔
(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۱۸۱ مرویات بسرین ارطاۃ) ''یا اﷲ ! مجھے دنیا اور آخرت کی آزمائش سے عافیت عطا فرما''