Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
250 - 325
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالی عنہُ)اسکے بعد فرماتے ہیں

ہم اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب وہ اس آدمی سے محبت کرتا ہے جو اس کی خدمت کرتا ہے مثلاً اس کے کپڑے دھوتا ہے' گھر کی صفائی کرتا ہے اور کھانا پکاتا ہے اور یوں اسے علم وعمل کے لئے فارغ رکھتا ہے اور اس آدمی کا اس سے خدمت لینا اس مقصد کے تحت ہے کہ یہ عبادت کے لئے فراغت حاصل کرے تو یہ اس شخص سے اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہے۔

اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ہم یوں کہتے ہیں کہ اس آدمی سے محبت کرنا جو اس پر اپنا مال خرچ کرتا ہے اور لباس اور رہائش کے ذریعے اس کی غمخواری کرتا ہے بلکہ اس کی تمام اغراض کو پورا کرتا ہے اور ان تمام کاموں سے اس آدمی کا مقصد اس شخص کوعلم و عمل کے لئے فارغ رکھنا ہوتا ہے جو قربِ خداوندی کا ذریعہ ہے تو یہ بھی اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرنے والا ہے۔

چنانچہ ہمارے بزرگوں کی ایک جماعت کی کفالت مال داروں کی ایک جماعت کرتی تھی تو یہ دونوں یعنی غم خواری کرنے والے اوروہ جن کی غمخواری کی گئی' اﷲ تعالیٰ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے شمارہوں گے۔

بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہم یوں کہتے ہیں کہ جو شخص نیک عورت سے نکاح کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے شیطان کے وسوسوں سے بچے اور اپنے دین کی حفاظت کرے یا اس سے نیک اولاد پیدا ہو اور عورت سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ ان دینی امور کا آلہ اور ذریعہ ہے تو وہ اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرنے والا ہے اور اس سلسلے میں احادیث آئی ہيں مثلاً
لقمے کا ثواب :
اہل وعیال پر خرچ کرنے کا اجرو ثواب ملتا ہے حتی کہ اس لقمے کا بھی جسے وہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے ۔

             (مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۹ ص ۱۰۷ کتاب الادب)

نیزجو شخص اﷲ تعالیٰ کی محبت اور آخرت میں اس کی ملاقات کی چاہت میں مشہور ہے یعنی اﷲ (عزوجل) کا ولی ہے جب وہ کسی اور سے محبت کرے تو بھی وہ اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرنے والا شمار ہوگا کیونکہ اس کے بارے میں یہی تصور ہوتا ہے کہ وہ جس سے بھی محبت کرتا ہے اپنے محبوب کے ساتھ اسمیں پائی جانے والی مناسبت کی وجہ سے کرتا ہے۔

اس کے علاوہ جب کسی کے دل میں دو محبتیں جمع ہوجائیں ایک اﷲ تعالیٰ کی محبت اور دوسری دنیا کی محبت' اور کسی دوسرے شخص میں بھی یہ دونوں باتیں جمع ہوجائیں اور کیفیت یہ ہو جائے کہ اس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ اور دنیا دونوں تک پہنچا
Flag Counter