میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالی عنہُ)اسکے بعد فرماتے ہیں
ہم اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب وہ اس آدمی سے محبت کرتا ہے جو اس کی خدمت کرتا ہے مثلاً اس کے کپڑے دھوتا ہے' گھر کی صفائی کرتا ہے اور کھانا پکاتا ہے اور یوں اسے علم وعمل کے لئے فارغ رکھتا ہے اور اس آدمی کا اس سے خدمت لینا اس مقصد کے تحت ہے کہ یہ عبادت کے لئے فراغت حاصل کرے تو یہ اس شخص سے اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہے۔
اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ہم یوں کہتے ہیں کہ اس آدمی سے محبت کرنا جو اس پر اپنا مال خرچ کرتا ہے اور لباس اور رہائش کے ذریعے اس کی غمخواری کرتا ہے بلکہ اس کی تمام اغراض کو پورا کرتا ہے اور ان تمام کاموں سے اس آدمی کا مقصد اس شخص کوعلم و عمل کے لئے فارغ رکھنا ہوتا ہے جو قربِ خداوندی کا ذریعہ ہے تو یہ بھی اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرنے والا ہے۔
چنانچہ ہمارے بزرگوں کی ایک جماعت کی کفالت مال داروں کی ایک جماعت کرتی تھی تو یہ دونوں یعنی غم خواری کرنے والے اوروہ جن کی غمخواری کی گئی' اﷲ تعالیٰ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے شمارہوں گے۔
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہم یوں کہتے ہیں کہ جو شخص نیک عورت سے نکاح کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے شیطان کے وسوسوں سے بچے اور اپنے دین کی حفاظت کرے یا اس سے نیک اولاد پیدا ہو اور عورت سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ ان دینی امور کا آلہ اور ذریعہ ہے تو وہ اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرنے والا ہے اور اس سلسلے میں احادیث آئی ہيں مثلاً