Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
24 - 325
میرا مقصد تو علم کو پھیلانا تھا اب اگر وہ اس علم کو فساد پھیلانے میں استعمال کرتا ہے تو یہ قصور اسکا ہے میرا نہیں میں نے صرف یہ ارادہ کیا تھا وہ علم حاصل کرکے بھلائی کی راہ چلے'' لیکن ایسے عالم کا یہ قول دراصل جاہ و منصب کی محبت، لوگوں کو اپنا تابع بنانے کی خواہش، اور علم کی زیادتی پر فخر کرنے کی چغلی کھا رہا ہے ۔

وہ ان باتوں کو اپنے دل میں اچھا سمجھتا ہے اور اس حبّ جاہ کی وجہ سے شیطان اسے دھوکے میں رکھتا ہے لیکن معلوم نہیں کہ اس اعتراض کا کیا جواب بن پڑے گا کہ جب کوئی کسی ڈاکو کو تلوار دے اور گھوڑا اور دیگر سامان ڈاکہ تیار کر کے ڈاکو کے لئے مدد فراہم کرے اور کہے کہ میں نے تو مال خرچ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ صفت سخاوت کو اختیارکیا ہے اور میری غرض یہ تھی کہ وہ اس سامان سے راہ خدا د میں جہاد کریگا اور بالیقین ایک غازی کی مدد کرنا نہایت عمدہ فعل ہے اب اگر اس شخص نے یہ سامان ڈاکے میں استعمال کر لیا تو میں کیا کر سکتا ہوں وہ خود اسکا ذمہ دار ہے حالانکہ اس بات پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ یہ کام (یعنی ڈاکو کی اس طرح مدد کرنا )حرام ہے باوجود اس کے کہ سخاوت اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ پسندیدہ صفت ہے یہاں تک کہ آقائے دو جہاں رحمت عالمیان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم  کا فرمان ذی شان ہے :
اِنَّ لِلّٰہِ تَعَالٰی ثَلاَثُمِائَۃِ خُلُقٍ مَنْ تَقَرَّبَ اِلَیْہِ بِوَاحِدٍ مِنْھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَ اَحَبُّھَا اِلَیْہٖ السَّخَاوَۃُ
ترجمہ: '' بے شک اللہ تعالیٰ کی تین سو صفات ہیں جو شخص ان میں سے کسی ایک کے ذریعے بھی اسکا قرب حاصل کرے جنت میں 

داخل ہوگا اور ان میں سے اس کے نزدیک سب سے محبوب صفت سخاوت ہے''(تذکرۃ الموضوعات، ص ۱۲،باب اوصافہ، المتشابہۃ)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور کیجئے کیا وجہ ہے کہ علمائے کرامث نے ایسی سخاوت کو حرام قرار دیا ہے اور ڈاکو کے اطوار کی تفتیش کر نا ضروری قرار دیا ہے ۔ چنانچہ جب اسکی یہ عادت ثابت ہو جائے کہ وہ تلوار کے ذریعے مخلوق خدا (عزوجل) پر ظلم کرتا ہے تو بہتر یہی ہے کہ اس سے تلوار چھین لی جائے نہ یہ کہ الٹا اسے تلوار مہیا کر کے ظلم پر اسکی مدد کی جائے ۔
علم اور تلوار:
تومیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جیسے تلوارایک ہتھیار ہے اسی طرح علم بھی ایک ہتھیار ہے جس کے ذریعے شیطان اور اسکے مدد گاروں کے خلاف جہاد کیاجاتا ہے لیکن بعض اوقات اسی ہتھیار سے اللہ د کے دشمنوں کو اپنے کالے کرتوُتوں پر مدد حاصل ہو جاتی ہے جیسا کہ خواہشات انسانی (کہ نفس امّارہ علم کو اپنے غلط مفاد میں استعمال کر لیتا ہے ) چنانچہ جو شخص ہمیشہ
Flag Counter