میرا مقصد تو علم کو پھیلانا تھا اب اگر وہ اس علم کو فساد پھیلانے میں استعمال کرتا ہے تو یہ قصور اسکا ہے میرا نہیں میں نے صرف یہ ارادہ کیا تھا وہ علم حاصل کرکے بھلائی کی راہ چلے'' لیکن ایسے عالم کا یہ قول دراصل جاہ و منصب کی محبت، لوگوں کو اپنا تابع بنانے کی خواہش، اور علم کی زیادتی پر فخر کرنے کی چغلی کھا رہا ہے ۔
وہ ان باتوں کو اپنے دل میں اچھا سمجھتا ہے اور اس حبّ جاہ کی وجہ سے شیطان اسے دھوکے میں رکھتا ہے لیکن معلوم نہیں کہ اس اعتراض کا کیا جواب بن پڑے گا کہ جب کوئی کسی ڈاکو کو تلوار دے اور گھوڑا اور دیگر سامان ڈاکہ تیار کر کے ڈاکو کے لئے مدد فراہم کرے اور کہے کہ میں نے تو مال خرچ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ صفت سخاوت کو اختیارکیا ہے اور میری غرض یہ تھی کہ وہ اس سامان سے راہ خدا د میں جہاد کریگا اور بالیقین ایک غازی کی مدد کرنا نہایت عمدہ فعل ہے اب اگر اس شخص نے یہ سامان ڈاکے میں استعمال کر لیا تو میں کیا کر سکتا ہوں وہ خود اسکا ذمہ دار ہے حالانکہ اس بات پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ یہ کام (یعنی ڈاکو کی اس طرح مدد کرنا )حرام ہے باوجود اس کے کہ سخاوت اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ پسندیدہ صفت ہے یہاں تک کہ آقائے دو جہاں رحمت عالمیان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے :