Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
248 - 325
اس سے ظاہر ہوا کہ انسان کبھی کسی کی ذات کی وجہ سے اس سے محبت کرتا ہے' کسی فوری یا تاخیر سے ملنے والے نفع کی وجہ سے نہیں' بلکہ صرف اس مناسبت کی وجہ سے جو باطنی طبیعتوں اور پوشیدہ اخلاق میں ہوتی ہے۔ محبت کی اس قسم میں حسن کی وجہ سے محبت کرنا بھی داخل ہے' جب کہ مقصود شہوت کا پورا کرنا نہ ہو۔ کیونکہ اچھی صورتیں آنکھوں میں لذت پیدا کرتی ہیں اگرچہ شہوت بالکل نہ ہو حتی کہ پھلوں' شگوفوں' کلیوں' سرخی آمیز سیبوں' جاری پانی اور سبزے کو دیکھ کر آنکھوں کو لذت حاصل ہوتی ہے حالانکہ یہاں کوئی دوسری غرض نہیں ہوتی۔ اس محبت میں اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت داخل نہیں بلکہ یہ فطری اور نفسانی خواہش کے اعتبار سے ہے اور یہ محبت' غیر مسلم کو بھی ہوسکتی ہے۔

البتہ اس کے ساتھ کوئی مذموم غرض مل جائے تو یہ مذموم ہوتی ہے جیسے کسی خوش شکل سے ناجائز طور پرتکمیل شہوت کے لئے محبت کرنا اور اس کے ساتھ کوئی بری غرض نہ ہو تو مباح ہے' نہ تو قابل تعریف ہے اور نہ ہی قابل مذمت 'کیونکہ محبت کی تین صورتیں ہیں 'محمود ہوگی یا مذموم یا مباح ۔
دوسری قسم :
یعنی کسی سے اس لئے محبت کرے کہ اس کے ذریعے کسی دوسری ذات کو حاصل کرے پس یہ محبوب تک پہنچنے کا وسیلہ ہوگا جو اس کے علاوہ ہے' اور محبوب کا وسیلہ بھی محبوب ہوتا ہے اور جس سے کسی دوسرے کے لئے محبت کی جائے تو حقیقی محبوب وہ دوسرا ہی ہوتا ہے البتہ محبوب تک پہنچنے کا راستہ بھی محبوب ہوتا ہے اسی لئے لوگ سونے اور چاندی سے محبت کرتے ہیں حالانکہ ان دونوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی کیونکہ یہ نہ تو کھائے جاتے ہیں اور نہ ہی پیئے لیکن یہ دونوں کئی محبوب چیزوں کا وسیلہ بنتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگوں سے ایسی محبت کی جاتی ہے جیسی سونے اور چاندی سے ہوتی ہے کیونکہ وہ مقصود کے لئے وسیلہ ہوتے ہیں اور دراصل ان لوگوں کے ذریعے مقام ومرتبہ یامال یا علم حاصل ہوتا ہے جیسے بادشاہ سے اس لئے محبت کی جاتی ہے کہ اس کے دل میں جگہ بنائیں۔

تو میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !جس تک پہنچنے کے لئے کسی شخص سے محبت کی جاتی ہے اگر اس کا فائدہ دنیا تک محدود ہے تو اس سے محبت' اﷲ تعالیٰ کے لئے نہیں ہوگی اور اگر اس کا فائدہ تودینی ہو سکتا ہو لیکن خودمحبت کرنے والااسے صرف دنیا حاصل کرنے کا وسیلہ بنا لے جیسے شاگرد کا اپنے استاذ سے محبت کرنا تو یہ بھی اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت سے خارج ہے کیونکہ یہ شخص اس سے صرف اس لئے محبت کرتا ہے تاکہ اپنی ذات کے لئے علم حاصل کرسکے تو اس کا محبوب علم ہے پس اگر علم قرب خداوندی مقصودنہ ہو بلکہ اس کے ذریعے مقام ومرتبہ' مال اور مخلوق کے نزدیک قبولیت حاصل کرنا مقصود ہوتو اس کا محبوب مرتبہ
Flag Counter