Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
247 - 325
اگر یہ بات یوں سچی ہو کہ اﷲ (عزوجل) نے آسمان اور زمین بھی اسی طریقے سے پیدا فرمائے ہیں تو اس صورت میں اصل مناسبت کو سمجھنا زیادہ مشکل ہوگا تو جس چیز کا راز انسان کے لئے ظاہر نہیں ہوتا اس میں غور وخوض کرنے کی کیا ضرورت ہے اور ہمیں تو بہت کم علم دیا گیا ہے۔ اور ہمیں اس کی تصدیق کے لئے تجربہ اور مشاہدہ ہی کافی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ :

تاجدار حرم نبی اکرم (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے فرمایا:

''اگر کوئی مومن ایسی مجلس میں جائے جس میں ایک سومنافق اور ایک مومن ہو تو وہ شخص مومن ہی کے پاس جا کر بیٹھے گا اور اگر کوئی منافق کسی مجلس میں جائے جہاں ایک سو مومن اور ایک منافق ہو تو وہ شخص منافق ہی کے پاس جا کر بیٹھے گا۔''(شعب الایمان جلد ۶ ص ۴۹۷ حدیث ۹۰۳۸)

یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جو چیز کسی دوسری چیز کے مشابہ ہوتی ہے وہ طبعی طور پر اس کی طرف کھنچتی ہے اگرچہ اسے اس کا شعور نہ ہو۔ 

چنانچہ حضرت سیدنا مالک بن دینار (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں کہ :

''دس آدمیوں میں جب دو آدمی کسی ایک بات پر متفق ہوتے ہیں تو ان میں کوئی نا کوئی مناسبت ضرور ہوتی ہے اور انسانوں کی جنس' پرندوں کی جنس کی طرح ہوتی ہے اور پرندوں کی دو قسمیں ایک ساتھ اڑنے میں ایک دوسرے کی موافقت اس لئے کرتی ہیں کہ ان کے درمیان کوئی مناسبت ہوتی ہے۔ ''
کوّا اور کبوتر:
چنانچہ ایک دفعہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے ایک کوئے کے ساتھ کبوتر کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو اس پر تعجب ہوا کہ یہ دونوں ایک ساتھ کیسے بیٹھے ہیں حالانکہ ان کی جنس مختلف ہے پھر وہ دونوں اڑے تو دیکھا کہ دونوں لنگڑے تھے' آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا اسی وجہ سے یہ دونوں باہم متفق ہیں۔ اسی لئے کسی دانا آدمی نے کہا ہے کہ ہر شخص اپنی شکل سے مانوس ہوتا ہے جیسا کہ ہر پرندہ اپنے ہم جنس کے ساتھ اڑتا ہے اور جب دو آدمی کچھ عرصہ ساتھ رہیں اور ان کی حالت ایک جیسی نہ ہو تو وہ ضرور جدا ہوجائیں گے یہ ایک مخفی بات ہے لیکن شعراء نے اسے معلوم کیا چنانچہ ایک شاعر نے کہا۔

'' کسی نے پوچھا کہ تم ایک دوسرے سے جدا کیسے ہوگئے تو میں نے انصاف بھری بات کہی کہ وہ میرا ہم مزاج نہ تھا اس لئے میں اس سے جدا ہوگیا کیونکہ لوگ ایک جیسے ہوتے ہیں تو باہمی محبت ہوتی ہے۔''
Flag Counter