اگر یہ بات یوں سچی ہو کہ اﷲ (عزوجل) نے آسمان اور زمین بھی اسی طریقے سے پیدا فرمائے ہیں تو اس صورت میں اصل مناسبت کو سمجھنا زیادہ مشکل ہوگا تو جس چیز کا راز انسان کے لئے ظاہر نہیں ہوتا اس میں غور وخوض کرنے کی کیا ضرورت ہے اور ہمیں تو بہت کم علم دیا گیا ہے۔ اور ہمیں اس کی تصدیق کے لئے تجربہ اور مشاہدہ ہی کافی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ :
تاجدار حرم نبی اکرم (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے فرمایا:
''اگر کوئی مومن ایسی مجلس میں جائے جس میں ایک سومنافق اور ایک مومن ہو تو وہ شخص مومن ہی کے پاس جا کر بیٹھے گا اور اگر کوئی منافق کسی مجلس میں جائے جہاں ایک سو مومن اور ایک منافق ہو تو وہ شخص منافق ہی کے پاس جا کر بیٹھے گا۔''(شعب الایمان جلد ۶ ص ۴۹۷ حدیث ۹۰۳۸)
یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جو چیز کسی دوسری چیز کے مشابہ ہوتی ہے وہ طبعی طور پر اس کی طرف کھنچتی ہے اگرچہ اسے اس کا شعور نہ ہو۔
چنانچہ حضرت سیدنا مالک بن دینار (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں کہ :
''دس آدمیوں میں جب دو آدمی کسی ایک بات پر متفق ہوتے ہیں تو ان میں کوئی نا کوئی مناسبت ضرور ہوتی ہے اور انسانوں کی جنس' پرندوں کی جنس کی طرح ہوتی ہے اور پرندوں کی دو قسمیں ایک ساتھ اڑنے میں ایک دوسرے کی موافقت اس لئے کرتی ہیں کہ ان کے درمیان کوئی مناسبت ہوتی ہے۔ ''