''رُوحیں جمع لشکر ہیں وہ ہوا میں ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں اور ملاقات کرتی ہیں۔''(کنز العمال جلد ۹ ص ۲۳ حدیث ۲۴۷۴۱)
بعض علماء کرام نے اس سے یہ مراد لیا کہ اﷲ (عزوجل) نے ارواح کو پیدا فرمایا تو ان میں سے بعض کو گروہوں کی شکل میں تقسیم فرمایا اور انہیں عرش کے گرد پھرایا تو ان میں سے جنہوں نے ایک دوسرے کو پہچانا وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں (یعنی ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں )۔
نبی اکرم شاہِ بنی آدم نور مجسم صلي ''رُوحیں جمع لشکر ہیں وہ ہوا میں ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں اور ملاقات کرتی ہیں۔''(کنز العمال جلد ۹ ص ۲۳ حدیث ۲۴۷۴۱)
بعض علماء کرام نے اس سے یہ مراد لیا کہ اﷲ (عزوجل) نے ارواح کو پیدا فرمایا تو ان میں سے بعض کو گروہوں کی شکل میں تقسیم فرمایا اور انہیں عرش کے گرد پھرایا تو ان میں سے جنہوں نے ایک دوسرے کو پہچانا وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں (یعنی ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں )۔
نبی اکرم شاہِ بنی آدم نور مجسم صلی اللہ تعالی علی وسلم نے فرمایا ۔
اللہ تعالی علی وسلم نے فرمایا ۔
اِنَّ اَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَیَلْتَقِیَانِ عَلَی مَسِیْرَۃَ یَوْمٍ وَمَا رَای اَحَدُھُمَا صَاِحَبہ' قَطٌّ۔
ترجمہ ''بے شک دو مومنوں کی روحیں ایک دن کی مسافت پر باہم ملتی ہیں حالانکہ ان میں ایک نے کبھی دوسرے کو دیکھا نہیں ہوتا''(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۲ ص ۲۲۰ مرویات عمر وبن العاص)
ایک روایت میں ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک عورت لوگوں کو ہنسایا کرتی تھی اور ایسے ہی مدینہ طیبہ میں بھی ایک دوسری عورت تھی جو لوگوں کو ہنسایا کرتی تھی ایک دن مکہ مکرمہ والی عورت مدینہ طیبہ آئی اور حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں ہنسایا انہوں نے دریافت فرمایا کہ'' تم کہاں ٹھہری ہوئی ہو؟ اس نے اپنی اسی سہیلی کا ذکر کیا جو مدینہ طیبہ میں لوگوں کو ہنساتی تھی ام المومنین رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بولیں''رسول اﷲ (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم)نے سچ فرمایا ہے کہ روحیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔''
تحقیق سے یہ بات ثابت ہے اور تجربہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب دو آدمیوں میں کوئی مناسبت ہو تو اس وقت باہمی محبت پیدا ہوتی ہے اور طبیعتوں اور اخلاق میں ظاہری اور باطنی طور پر مناسبت معلوم ہوہی جاتی ہے ۔
چنانچہ وہ اسباب جو اس مناسبت کو پیدا کرتے ہیں' انسان کے بس میں نہیں کہ ان پر مطلع ہوسکے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی نجومی ایک کا زائچہ بنا کر دوسرے کے زائچے کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ فلاں کو فلاں سے محبت ہوگی یا نفرت ہوگی ۔