Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
245 - 325
اور جس سے محبت ہوتی ہے یا تو اس کی ذات کی وجہ سے محبت کی جاتی ہے یا اس لئے محبت کی جاتی ہے کہ وہ محبوب تک پہنچنے کا وسیلہ ہوتا ہے پھر یہ محبوب یا تو دنیا اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد تک محدود ہوتا ہے یا آخرت کے بارے میں ہوتا ہے یا پھر اس کا تعلق اﷲ (عزوجل) سے ہوتا ہے تو یوں یہ چار قسمیں ہوئیں۔
اقسامِ محبت

پہلی قسم :
پہلی قسم کی محبت یہ ہے کہ تم کسی آدمی سے اس کی ذات کی وجہ سے محبت کرو۔ اور ایسا ہونا ممکن ہے یعنی وہ تمہارے نزدیک ذاتی طور پر محبوب ہو 'تم اسے دیکھ کر یا اس کی معرفت یا اخلاق کا مشاہدہ کرکے لذت حاصل کرو اس لئے کہ تمہارے نزدیک وہ حسن و جمال کا پیکر ہے۔ اور جو شخص کسی کے جمال کا ادراک و شعور رکھتا ہے اس کے نزدیک ہر جمیل چیز لذیذ ہوتی ہے اور ہر لذیذ چیز محبوب ہوتی ہے اور لذت کا تعلق کسی کو حسین سمجھنے سے ہے اور حسین تب سمجھاجاتا ہے جب طبیعتوں میں مناسبت اور موافقت ہو پھر وہ جسے اچھا آدمی سمجھتا ہے وہ یا تو ظاہری صورت کے اعتبار سے حسین سمجھا جاتا ہے (اس کی شکل و صورت اچھی ہے ) یا باطنی صورت کی وجہ سے اچھا سمجھا جاتا ہے' مطلب یہ کہ وہ عقل کامل اور اخلاق حسنہ کا مالک ہے اور حسن اخلاق کا تعلق اچھے اعمال سے ہوتا ہے اور کمال عقل کا تعلق علم کی عمدگی سے ہوتا ہے اور یہ تمام کام عقل سلیم کے نزدیک اچھے ہیں اور جس چیز کو اچھا سمجھا جائے وہ محبوب ہوتی ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دلوں کی باہمی محبت میں تو اس سے بھی گہری بات یہ ہے کہ کبھی دو آدمیوں کے درمیان اچھی صورت کی وجہ سے محبت ہوتی ہے اور کبھی ظاہری اور باطنی حسن نہ ہونے کے باوجود بھی باہم محبت ہوتی ہے' اس کی وجہ باطنی مناسبت ہے جو الفت اور موافقت پیدا کرتی ہے کیونکہ کسی چیز کی مشابہت فطری طور پر اس کی طرف کھینچتی ہے اور باطنی مشابہتیں پوشیدہ ہیں اور ان کے اسباب بہت مشکل ہیں ان پر مطلع ہونا انسان کے بس میں نہیں ہے۔

چنانچہ سرکار مدینہ راحتِ قلب وسینہ صاحبِ معطر پسینہ باعث نزول سکینہ (صلي اللہ تعالی عليہ وسلم) نے اس بات کو یوں تعبیر فرمایا۔
الاْرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَۃٌ فَمَا تَعَارفَ مِنْھَا ائتَلَفَ وَمَا تَنَاکَرَ مِنْھَا اخْتَلَفَ۔
''رُوحیں مجتمع لشکر ہیں ان میں سے جو ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں وہ ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں

اور جو ایک دوسرے کو نہیں پہچانتیں وہ الگ رہتی ہیں'' (صحیح بخاری جلد اول ص ۴۶۹ کتاب الانبیاء)

پہچاننا اور نہ پہچاننا ایک دوسرے کی ضد ہيں اور باہمی محبت اسی پہچان کے سبب ہے جسے حدیث مبارکہ میں تعارف
Flag Counter