Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
244 - 325
گزار لوگوں میں سے ہے ؟ اﷲ (عزوجل) کی قسم ! نہیں ' کیا صالحین سے ہے ؟ قسم بخدا ! نہیں تو اس وقت میری حالت کیا ہوگی ؟ ''پھر آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اپنے نفس کو ملامت کرنے اور جھڑکنے لگے۔ 

چنانچہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرمارہے تھے۔۔۔۔۔۔ ''جوانی میں تو تو نافرمان تھا اب ریا کار بھی ہوگیا ہے۔ اﷲ (عزوجل) کی قسم ! ریاکار' فاسق سے بھی برا ہے''۔

ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا ''جب تم میں سے کسی سے کوئی مسلمان بھائی محبت کرے تو اسے مضبوطی سے پکڑے کیونکہ ایسے لوگ کم ملتے ہیں۔''

حضرت سیدنا مجاہد (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں :
گناہ جھڑتے ہیں :
'' اﷲ (عزوجل) کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے جب باہم ملاقات کرتے وقت خوش ہوتے ہیں تو ان کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے موسم خزاں میں درختوں کے پتے خشک ہو کر گرتے ہیں۔''

حضرت سیدنا فضیل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں'' کسی آدمی کا اپنے مسلمان کی طرف مودّت و رحمت (محبت و الفت) کے ساتھ دیکھنا عبادت ہے۔''
اخوت کا مفہوم' نیز دینی اور دنیاوی بھائی چارے میں فرق:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ الباری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کچھ اس طرح فرماتے ہیں۔

اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت اور اس کے لئے دشمنی ایک مشکل بات ہے' ہم جو کچھ ذکر کریں گے اس کے ذریعے بات واضح ہوجائے گی ۔ 

صحبت کی اقسام:

صحبت کی دو قسمیں ہیں' ایک وہ جو اتفاقاً ہوجاتی ہے جیسے پڑوسی ہونے کے باعث کسی مکتب میں یا مدرسہ یا بازار میں یا بادشاہ کے دروازے پر یا سفر میں اکٹھے ہونے سے۔

دوسری وہ جو اپنے اختیار اور ارادے سے اپنائی جاتی ہے۔ ہم اسے ہی بیان کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ دینی بھائی چارہ اسی قسم میں شامل ہے اس لئے کہ ثواب ان کاموں پر ملتا ہے جو انسان اپنے اختیار سے کرتا ہے صحبت کا مطلب ایک دوسرے کا ہم مجلس ہونا' آپس میں ملنا جلنا اور پڑوسی بننا ہے اور آدمی کسی دوسرے کے لئے یہ باتیں تب ہی چاہتا ہے جب اس سے محبت کرتا ہے کیونکہ جس سے محبت نہ ہو اس سے دوری اختیار کی جاتی ہے' اس سے میل جول کا قصد نہیں کیا جاتا ۔
Flag Counter