Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
243 - 325
یہ اس بات کی طرف سے اشارہ ہے کہ خالی محبت نفع نہیں دیتی چنانچہ حضرت سیدنا فضیل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اپنے بعض کلام میں فرمایا :

''ہائے افسوس ! تم جنت الفردوس میں رہنا چاہتے ہو اور اﷲ (عزوجل) کے گھر میں انبیاء کرام علیہم السلام' صدیقین اور شہداء کے ساتھ ان کا پڑوس بھی چاہتے ہو لیکن بتاؤ کس عمل کے ذریعے جو تم نے کیا ہو ؟ کس خواہش کو تم نے چھوڑا ہے ؟ کس غصے کو پیاہے؟ کون سے قطع رحم کرنے والے سے تم نے صلہ رحمی کی ہے ؟ اپنے مسلمان بھائی کی کونسی غلطی تم نے معاف کی ہے؟ اپنے کونسے رشتہ دار سے اﷲ (عزوجل) کی خاطر دوری اختیار کی ہے ؟ اور کس غیرکو اﷲ (عزوجل) کی خاطر اپنا دوست بنایا ہے؟''

ایک روایت میں ہے کہ اﷲ لنے حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ'' تم نے میرے لئے کوئی عمل نہیں کیا' انہوں نے عرض کی یا اﷲ (عزوجل) ! میں نے تیرے لئے نماز پڑھی' روزہ رکھا' صدقہ اور زکوٰۃ دی' اﷲ لنے فرمایا بے شک نماز تمہارے لئے دلیل ہے' روزہ تمہارے لئے ڈھال ہے صدقہ تمہارے لئے سایہ ہے' زکوٰۃ تمہارے لئے نور ہے' تو بتایئے کہ تم نے خالص میرے لئے کیا عمل کیا ؟ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا یا اﷲ (عزوجل) ! مجھے بتا کہ کونسا عمل ہے جو تیرے لئے ہے ؟ اﷲ (عزوجل) نے فرمایا اے موسیٰ ! کیا تم نے کبھی میری خاطر کسی سے دوستی کی ؟ کسی سے میری خاطر دشمنی کی ؟ چنانچہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام سمجھ گئے کہ سب سے افضل عمل اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کرنا اور اﷲ (عزوجل) کے لئے دشمنی رکھنا ہے۔''

حضرت سیدنا عبد اﷲ بن مسعود (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں:

''اگر کوئی شخص کعبہ شریف کی دیواراور مقام ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کھڑا ہو کر ستر سال اﷲ (عزوجل) کی عبادت کرے تب بھی اﷲ (عزوجل) قیامت کے دن اسے اس کے ساتھ اٹھائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہے''۔ ایسے ہی حضرت سیدنا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں''فاسق سے قطع تعلق کرنا قرب خداوندی (عزوجل) کا ذریعہ ہے۔''

روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا محمد بن واسع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے عرض کی کہ میں آپ سے اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کرتا ہوں' انہوں نے فرمایا ''جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے 'پھر اپنا رخ پھیرتے ہوئے دعا مانگی اے اﷲ (عزوجل) ! میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تیری وجہ سے مجھ سے محبت کی جائے اور تو مجھ سے نفرت کرے۔ ''

ایک مرتبہ ایک شخص حضرت سیدنا داؤد طائی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے پاس حاضر ہوا انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے کیا کام ہے ؟ اس نے عرض کی کہ صرف آپ کی زیارت کرنے آیا ہوں' آپ صنے فرمایا'' تم نے زیارت کرکے اچھا کام کیا لیکن جب مجھ سے پوچھا جائے گا کہ تو کون ہے جس کی زیارت کی جاتی ہے؟ کیا تو زاہدین میں سے ہے ؟ اﷲ (عزوجل) کی قسم ! نہیں' کیا عبادت