| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ہزار کھڑکیاں ہوں گی' وہ اہل جنت کی طرف جھانکیں گے تو ان سے جنتی اس طرح ظاہر ہوں گے جس طرح اہل دنیا سورج سے۔ چنانچہ جنتی کہیں گے ہمیں ان لوگوں کے قریب لے چلو تاکہ ہم ان کو دیکھیں جو اﷲ (عزوجل) کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو پھران سے جنتیوں کو اس طرح چمک حاصل ہوگی جس طرح سورج کی روشنی سے (دوسری اشیاء کو) ہوتی ہے' وہ سب سبز ریشمی لباس پہنے ہونگے اور ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوگا کہ یہ لوگ اﷲ (عزوجل) کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ ''(مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۱۳ ص ۱۴۵ حدیث ۱۵۹۴۸)
اقوال صحابہ و تابعین(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) :
حضرت سیدنا علی المرتضی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں' ''تمہیں چاہئے کہ ایسے (اسلامی) بھائی (دوست) بناؤ جو دنیا میں بھی تمہارے کام آئیں اور آخرت میں بھی ' کیونکہ تم نے جہنمیوں کی بات نہیں سنی وہ کہیں گے۔۔۔۔۔۔
فَمَا لَنَا مِنۡ شَافِعِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾ۙوَلَا صَدِیۡقٍ حَمِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾
ترجمہ کنزالایمان '' اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں اور نہ کوئی غمخوار دوست''(پارہ نمبر۱۹ ' سوره شعراء آیت ۱۰۰' ۱۰۱) حضرت سیدنا عبد اﷲ بن عمر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں: ''اﷲ (عزوجل) کی قسم ! اگر میں دن کو روزہ رکھوں اور اسے افطار نہ کروں اور رات کو قیام کروں سونے کے قریب بھی نہ جاؤں اور وقفے وقفے سے اﷲ (عزوجل) کے راستے میں مال خرچ کروں تو جس دن میں مروں گا اگر اس دن میرے دل میں اطاعت خداوندی کرنے والوں کی محبت اور نافرمان لوگوں سے نفرت نہیں ہوگی تو مجھے ان اعمال سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔''
قرب کا ذریعہ :
حضرت سیدنا ابن سماک (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے انتقال سے پہلے ارشاد فرمایا : ''اے اﷲ (عزوجل) ! تو جانتا ہے کہ جب میں گناہ گار تھا تیری نافرمانی کرتا تھا لیکن تیرے فرمانبردار بندوں سے محبت بھی کرتا تھا' یا اﷲ (عزوجل) ! میرے اسی عمل کو اپنے قرب کا ذریعہ بنادے۔'' اور حضرت سیدنا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے آخری وقت میں یوں نصیحت فرمائی : ''اے ابن آدم ! تجھے کسی کا یہ قول فائدہ نہیں دے گا کہ ''انسان اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے محبت کرتا ہے'' کیونکہ اعمال کے بغیر نیک لوگوں کا ساتھ نہیں مل سکتا کیونکہ یہود ونصاریٰ بھی اپنے ابنیاء کرام علیہم السلام سے محبت کرتے تھے لیکن وہ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔