ایسے ہی اﷲ (عزوجل) نے حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ ''اے داؤد (علیہ السلام) ! کیا بات ہے کہ تم لوگوں سے نہیں ملتے ؟ انہوں نے عرض کیا یا اﷲ (عزوجل) ! میں نے تیری خاطر مخلوق کو چھوڑ دیا ہے اﷲ (عزوجل)نے فرمایا اے داؤد علیہ السلام ! ہوشیار رہو اور اپنے لئے دوست تلاش کرو اور جو کوئی میری رضا پر تمہارا ساتھ نہ دے اس سے دوستی نہ کرو کیونکہ وہ تمہارا دشمن ہے 'وہ تمہارے دل کو سخت کردے گا اور مجھ سے دور کردے گا۔''
حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام ہی کے واقعات میں ہے کہ انہوں نے عرض کی'' اے میرے رب (عزوجل) ! یہ کس طرح ممکن ہے کہ سب لوگ مجھ سے محبت بھی کریں اور میرا تیرے ساتھ معاملہ بھی سلامت رہے؟''
اﷲ(عزوجل)نے فرمایا کہ'' لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ اور میرے ساتھ معاملے کو بھی اچھا رکھو''۔ بعض روایات میں ہے کہ فرمایا ''دنیا والوں سے دینوی طور طریقے اپناؤ اور آخرت والوں سے آخرت کے طریقے اپناؤ''۔
چنانچہ محبوب رب اکبر مالک کوثر (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے فرمایا۔
''بے شک اﷲ (عزوجل) کے ہاں تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو (اﷲ (عزوجل) کی خاطر) دوسروں سے محبت کرتے ہیں اور (اﷲ (عزوجل) کی خاطر) وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور سب سے زیادہ برے لوگ وہ ہیں جو چغل خور ہیں اور مسلمان بھائیوں کے درمیان تفریق ڈالتے ہیں۔'' (الترغیب والترہیب جلد ۳ ص ۴۱۰ کتاب الادب)