| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
''ایمان کی رسیوں میں سے سب سے زیادہ مضبوط رسی 'اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت اور اﷲ (عزوجل) کے لئے نفرت کرنا ہے''(مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۱۱ ص ۴۸ حدیث ۱۰۴۹۲) اگر آدمی کے کچھ دشمن ہوں تو ان سے اﷲ (عزوجل) ہی کے لئے دشمنی رکھتا ہو جیسا کہ اس کے دوست اور بھائی ہوتے ہیں جن سے وہ اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کرتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اﷲ (عزوجل) نے ایک نبی کی طرف وحی بھیجی' کہ تم نے دنیا میں جو زہد و تقویٰ اختیار کیا اس کا فوری بدلہ آرام کی صورت میں مل گیا تم نے لوگوں سے قطع تعلق کرکے مجھ سے تعلق جوڑا تو میری وجہ سے تم معزز ہوگئے لیکن کیا تم نے میری وجہ سے کسی سے دشمنی بھی کی ہے ؟ اور کیا میری خاطر کسی سے دوستی بھی کی ہے؟ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ اﷲ (عزوجل) کی خاطردوستی ہو اور اسی کی خاطر دشمنی ہو۔ چنانچہ رسول اکرم صلي اللہ تعالي عليہ وسلم نے فرمایا:
اَللَّھُمَّ لاَتَجْعَلْ لِفَاجِرٍ عَلَیَّ مِنَّۃً فَتَرْزُقَہ مِنِّیْ مَحَبَّۃً۔
''یا اﷲ ! مجھے کسی فاجر (یعنی گناہ کرنے والا ) کا احسان مند نہ کرنا کہ تو اسے میری محبت عطا کردے''(الاسرار المرفوعۃ ص ۱۰۳ حدیث ۳۹۲) ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ (عزوجل) نے حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ'' اگرتم تمام آسمانوں اور زمین والوں کی عبادت کے برابر عبادت کرولیکن اﷲ (عزوجل) کے لئے کسی سے محبت اور اﷲ (عزوجل)کے لئے کسی سے دشمنی نہ رکھو تو یہ عبادت تمہیں کچھ فائدہ نہ دے گی''۔ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے لوگوں سے ارشاد فرمایا کہ'' نافرمان وہ لوگ ہیں جو اﷲ (عزوجل) کے دشمن ہیں ایسے لوگوں سے دشمنی کے ذریعے اﷲ (عزوجل) کی محبت حاصل کرو' ان سے دوری کے ذریعے اﷲ (عزوجل) کا قرب حاصل کرو اور ان سے ناراضگی کے باعث اﷲ (عزوجل) کی رضا حاصل کرو۔ انہوں نے عرض کیا اے روح اﷲ علیہ السلام ! ہم کس کی مجلس اختیار کریں؟ آپ نے فرمایا ان لوگوں کے ہمنشین بنو جن کو دیکھنے سے اﷲ (عزوجل) یاد آجائے اور ان کی گفتگو سے تمہارے اعمال میں اضافہ ہو ' نیز ان کے عمل سے آخرت کی رغبت پیدا ہو''۔ گزشتہ کتابوں میں مروی ہے کہ اﷲ (عزوجل) نے حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی فرمایا'' اے ابن عمران ! بیدارو ہوشیار رہو' اور اپنے لئے دوست طلب کرو اور جو دوست اور ساتھی میری رضا پر تمہارا ساتھ نہ دے وہ تمہارا دشمن ہے''۔