| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ترجمہ کنزالایمان: ''تو اے لوگو علم والو سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو'' (پارہ ۱۷ 'سورۃ انبیاء 'آیت ۷) اور محبوب رحمن ، سرور ذی شان(عزوجل و ) کا فرمان عبرت نشان ہے :
'' لاَیُعْذَرُ الْجَاھِلُ عَلَی الْجَھْلِ وَ لاَ یَحِلُّ لِلْجَاھِلِ اَنْ یَّسْکُتَ عَلَی جَھْلِہٖ وَ لاَ لِلْعَالِمِ اَنْ یَسْکُتَ عَلٰی عِلْمِہٖ''
ترجمہ: '' جاہل کو اسکی جہالت کی بناء پر معذور نہیں سمجھا جائے گا اور جاہل کو اپنی جہالت اور عالم کو اپنے علم پر (بلا وجہ) خاموشی اختیار کر نا جائز نہیں۔'' ( یعنی جاہل کو چاہئیے کہ علم حاصل کرے اور عالم کو چاہئیے کہ لوگوں کو علم سکھائے۔'') (مجمع الزوائد ، ج اول، ص ۱۶۴، ۱۶۵، کتاب العلم) چنانچہ جو لوگ حرام مال سے مسجد و مدارس بنا کر بادشاہوں کا یا امیروں کا قرب حاصل کرتے ہیں وہ ان علمائے سوء کے قریب ہیں جو شر پسندوں اور بیوقوفوں کوعلم سکھاتے ہیں جو فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں انکا صرف یہی کام ہوتا ہے کہ علماء سے مقابلہ کریں،بیوقوفوں کو گمراہ کریں،لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں، دنیوی مال اور دولت کے انبار جمع کریں اور بادشاہوں ،یتیموں اور مسکینوں کا مال جیسے بن پڑے حاصل کریں۔
بدکاروں کو علم دین سکھانے کا وبال:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس قسم کے لوگ جب دو چار جماعتیں پڑھ لیتے ہیں تو گویا خضر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے بھیس میں رہزن بن جاتے ہیں یعنی راہنما بن کر گمراہی سکھاتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگ دنیا میں دجّال کے نائب بن جاتے ہیں ،دنیا پر کتّوں کی طرح جھگڑتے ہیں، نفسانی خواہشات کی پیروی کو مقصد حیات سمجھتے ہیں ایسے لوگ تقوے سے کوسوں دور رہتے ہیں ان کے کرتوت دیکھ کر لوگوں کو گناہ کی جرأت ہوتی ہے۔ پھر یہ علم ان جیسے لوگوں تک نسل در نسل منتقل ہوتا جاتا ہے اور وہ بھی اپنے علم کو حصولِ زر اور اتّباعِ خواہش کا وسیلہ سمجھتے ہیں یہ سلسلہ طول پکڑتا جاتا ہے اور اس ساری خرابی کا وبال اس معلّم پر ہوتا ہے ایسے لوگوں میں نِیّت و ارادے کی خرابی دیکھنے کے باوجود انہیں علم سکھاتا ہے ۔ان میں طرح طرح کی خرابیوں اور گناہوں کو آنکھوں سے دیکھ کر بھی انہیں تعلیم دینا نہیں چھوڑتا۔ چنانچہ ایسا عالم خود تو دنیا سے چلا جاتا ہے لیکن اپنے پیچھے ایسا شر چھوڑ جاتا ہے جو سینکڑوں سال تک تباہی مچاتارہتا ہے ۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس عالم سے تو وہ شخص اچھا ہے جسکی موت کے ساتھ ہی اسکے گناہوں کا سلسلہ ختم ہو جائے پھر تعجب کی بات ہے کہ اس قسم کے علماء جہالت کی وجہ سے کہتے ہیں '' اعمال کا دارومدار نِیّت پر ہے فلاں شخص کو تعلیم دینے سے