| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔''(مشکوٰۃ شریف ص ۴۲۶ کتاب الآداب فضل ثانی) نبی اکرم شاہ بنی آدم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا'' جب دو آدمی آپس میں اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کرتے ہیں تو ان میں سے جو شخص دوسرے سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ اﷲ (عزوجل) کو زیادہ محبوب ہوتا ہے۔'' (المستدرک للحاکم جلد ۴ ص ۱۷۱ کتاب البروالصلۃ) منقول ہے کہ اگر اﷲ (عزوجل) کے لئے بھائی چارہ قائم کرنے والے دو بھائیوں میں سے ایک بلند مقام پر فائز ہو تو وہ دوسرے کو بھی اٹھا کر اپنے ساتھ کرلیتا ہے اور وہ اس کے ساتھ اس طرح مل جاتا ہے جس طرح اولاد اپنے باپ کے ساتھ مل جاتی ہے اور رشتہ دار ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں کیونکہ جب اﷲ (عزوجل) کے لئے بھائی چارہ ہو تو وہ نسبی اخوت سے کم نہیں ہوتا۔ چنانچہ اﷲ (عزوجل) نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :۔
اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰہُمۡ مِّنْ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ
ترجمہ کنزالایمان '' ہم نے ان کی اولاد ان سے ملا دی اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی''(پارہ نمبر ۲۷' سوره طور آیت ۲۱)
رحمت عالمیا ن سرور ذیشان صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
''اﷲ (عزوجل) ارشاد فرماتا ہے کہ میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہوگئی جو میرے لئے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں' میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہوگئی جو میرے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں' میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہوگئی جو میرے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہوگئی جو میرے لئے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں''۔
(مسند امام احمد بن حنبل جلد۵ ص ۳۲۸ مرویات عبادہ بن سمات)
رحمت عالمیا ن سرور ذیشان صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مزید ایک اور مقام پر ارشادفرمایا:''اﷲ (عزوجل) قیامت کے دن فرمائے گا وہ لوگ کہاں ہیں جو میرے جلال کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا جب کہ میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں''۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی جلد ۱۰ ص ۲۳۳ کتاب الشہادات) مکی مدنی سرکار آقا ئے دو جہاں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔