| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
جب دو بھائیوں کی باہم ملاقات ہوتی ہے توگویا وہ دونوں ہاتھوں کی طرح ہوتے ہیں کہ ان میں سے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو دھوتا ہے(اسی طرح مومن ایک دوسرے کی اصلاح کرتے ہیں) اور جب بھی دو مومن ملاقات کرتے ہیں اﷲ (عزوجل) انہیں ایک دوسرے سے فائدہ پہنچاتا ہے۔
(الفردوس بماثور الخطاب جلد ۴ ص ۱۳۲ حدیث ۶۴۱۱)
نبی کریم رؤف رحیم ا نے اﷲ (عزوجل) کے لئے بھائی چارے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔مَنْ آخیٰ اَخًافِی اﷲِ رَفَعَہُ االلہُ دَرَجَۃً فِی الْجَنَّۃَ لاَیَنَا لُھَا بِشَیْ ءٍ مِنْ عَمَلِہٖ۔
''جو آدمی کسی شخص کو اﷲ (عزوجل) کے لئے اپنا بھائی بناتا ہے اﷲ (عزوجل) جنت میں اس کا ایک درجہ بلند کریگا جس تک وہ کسی دوسرے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا''(فیض القدیر جلد ۵ ص ۴۱۲ حدیث ۷۷۸۹) حضرت سیدنا ابو ادریس خولانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے حضرت سیدنا معاذ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے فرمایا '' میں آپ سے اﷲ لکے لئے محبت کرتا ہوں''۔ انہوں نے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو تمہیں خوشخبری ہو کیونکہ میں نے سرکار دو عالم ا سے سنا آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
عرش کے گرد کرسیاں :
''قیامت کے دن لوگوں کی ایک جماعت کے لئے عرش کے گرد کرسیاں رکھی جائیں گی ان لوگوں کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے اور وہ خوفزدہ نہیں ہوں گے حالانکہ لوگ خوفزدہ ہوں گے ۔ان لوگوں کو کوئی ڈر نہیں ہوگا اور یہ اﷲ عزوجل کے دوست ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم۔ عرض کیا گیا یا رسول اﷲ ا ! یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے سے خدا کے لئے محبت کرتے ہیں''۔
(مسند امام احمد بن حنبل جل ۵ ص ۳۳۸ مرویات عبادہ بن صامت)قا بل رشک :
حضرت سیدنا ابوہریرہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا ''بے شک عرش کے گرد نور کے منبر ہوں گے ان پر کچھ لوگ ہوں گے جن کے لباس نورانی اور چہرے بھی روشن ہوں گے وہ انبیاء یا شہدا ء نہیں ہوں گے' لیکن انبیاء کرام علیہم السلام اور شہداء ان پر رشک کریں گے۔ (یہ ان لوگوں کے مقام کی عظمت کا بیان ہے) انہوں نے عرض کیا یار سول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ! ہم سے ان کا وصف (یعنی اس فضیلت کی وجہ ) بیان فرمائیں آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اﷲ (عزوجل) کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں' اﷲ (عزوجل) کی خاطر ایک دوسرے کی مجلس اختیار کرتے ہیں اور اﷲ (عزوجل) کی رضا کی خاطر ایک