Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
236 - 325
 بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمۡ بِنِعْمَتِہٖۤ اِخْوَانًا ۚ وَکُنۡتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنْہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
ترجمہ کنز الایمان : '' اور اﷲ (عزوجل) کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا اور اﷲ (عزوجل) کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اور اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا اﷲ (عزوجل) تم سے یونہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ'' (پارہ نمبر ۴' سوره آل عمران آیت ۱۰۳)

نیزنبی اکرم نورِ مجسم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آپس کی الفت اور محبت بڑھانے کے لئے تاکیداًارشاد فرمایا۔
اِنَّ اَقْرَبَکُمْ مِّنّیِ مَجْلِساً اَحَا سِنُکُمْ اَخْلاَقاً اَلْمُؤطُّوْنَ اَکْنَافاً الَّذِیْنَ یَالِفُوْنَ وَیُوْلَفُوْنَ۔
''تم میں سے وہ لوگ مجلس میں میرے زیادہ قریب ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں' جو اپنے پہلوؤں کو جھکا دیتے 

ہیں' وہ دوسروں سے محبت کرتے اور دوسرے ان سے محبت کرتے ہیں''(شعب الایمان جل ۶ ص ۲۳۴ حدیث ۸۹۸۸)

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا۔
اَلْمُومِنُ اٰلِفٌ مَالُوْفٌ وَلَاخَیْرَ فِیْمَنْ لاَیَالِفُ وَلَایُوْلَفُ۔
''مومن محبت کرنے والا ہوتا ہے اور اس سے محبت کی جاتی ہے۔ جو لوگ دوسروں سے محبت نہیں کرتے اورنہ ان سے محبت کی جاتی ہو ان میں کوئی بھلائی نہیں''(تاریخ ابن عساکر جلد ۳ ص ۲۲ من اسمہ اسماعیل)
اچھا دوست :
چنانچہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دینی اخوت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا۔
مَنْ اَرَادَ االلہُ بِہٖ خَیْراً رَزَقَہُ االلہُ خَلِیْلاً صَالِحاً اِنْ نَسِیَ ذَکَّرَہ' وَاِنْ ذَکَرَ اَعَانَہ'۔
''اﷲ (عزوجل) جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے ایسا نیک دوست عطا کردیتا ہے کہ اگر یہ (ذکر اﷲ)بھول جائے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرتا ہے'' (سنن ابی داؤد جلد ۲ ص ۵۱ کتاب الخراج)

سرکار دوعالم نور مجسم تاج دار عرب وعجم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  مزید ارشاد فرماتے ہیں۔
Flag Counter