| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !آپ جانتے ہیں کہ باہمی محبت' اچھے اخلاق اورآپس کا اختلاف بد اخلاقی کا نتیجہ ہے۔ اچھے اخلاق سے آپس میں محبت اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور برے اخلاق سے باہمی نفرت ، حسد اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے جیسی برائیاں پیدا ہوتی ہيں۔ اچھے اخلاق کی فضیلت کوئی پوشیدہ بات نہیں۔ اﷲ لنے اسے بات پر اپنے پیارے نبی اکرم ا کی یوں تعریف فرمائی ہے۔
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾
ترجمہ کنز الایمان : ''اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے '' ( پارہ نمبر ۲۹ ' سوره القلم آیت ۴) رسول اکرم نورِ مجسم اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
اَکْثَرُ مَایُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّۃَ تَقْوَی اﷲِ وَحُسْنُ الْخُلْقِ۔
''تقویٰ اور اچھے اخلاق کے باعث زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے''(جامع ترمذی ص ۲۹۴ ابواب البرو الصلۃ) حضرت سیدنا اسامہ بن شریک (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انسان کو کونسی اچھی بات عطا کی گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا '' اچھے اخلاق'' (مسند امام احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۲۷۸ مرویات اسامہ بن شریک) رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا :
بُعِثْتُ لِاُتَمِمَّ مَکَاَرِمَ الْاَخْلَاقِ۔
''مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے''(السنن الکبریٰ للبیہقی جلد ۱۰ ص ۱۹۲ کتاب الشہادات) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :
اَثْقَلُ مَا یُوْضَعُ فِی الْمِیْزَانِ خُلُقٌ حَسَنٌ۔
''میزان میں جو سب سے زیادہ وزنی چیز رکھی جائے گی وہ اچھے اخلاق ہیں''(سنن ابی داؤد جلد ۲ ص ۳۰۵ کتاب الادب)