Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
233 - 325
طرح بٹھا لو کہ وہ تمہارے دل کو کاٹتی اور نوچتی ہیں۔ ظاہری جسم تو ایک طرف رہا ۔۔۔۔۔۔
الفت اور بھائی چارے کا بیان
تمام تعریفیں اﷲ (عزوجل) کے لئے ہیں جس نے اپنے خاص بندوں کو فضل و کرم کی چادر سے ڈھانپ لیا اور ان کے دلوں میں آپس کی محبت ڈال دی حتی کہ وہ اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور ان کے دلوں سے کینہ نکال دیا چنانچہ وہ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست اور آخرت میں رفیق وخلیل ہوں گے۔

اور حضرت محمد مصطفی ا پر اور آپ کے آل واصحاب (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین) پر رحمت کاملہ ہو جنہوں نے قول وفعل اور عدل و احسان میں آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اتباع کی۔

حمدو صلوٰۃ کے بعد ۔۔۔۔۔۔ اﷲ (عزوجل) کی رضا کے لئے باہمی محبت اور دین کے اعتبار سے بھائی چارہ ' قرب خداوندی کا بہترین ذریعہ ہے البتہ اس کیلئے کچھ شرائط ہیں جن کی ادائیگی سے باہم دوستی کرنے والے اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اور کچھ حقوق ہیں جن کی رعایت کرنے سے باہمی تعلق' شیطانی اثرات اور دیگر خرابیوں سے پاک وصاف رہتا ہے ، اﷲ (عزوجل) کا قرب حاصل ہوتا ہے نیز اعلیٰ درجات حاصل ہوتے ہیں۔ ہم اس کو تین ابواب میں بیا ن کریں گے۔

پہلا باب :۔۔۔۔۔۔محض اﷲ عزوجل کے لئے محبت اور بھائی چارے کی فضیلت اس کی شرائط' درجات و فوائد۔

دوسرا باب :۔۔۔۔۔۔ محبت کے حقوق' آداب و حقیقت اورلوازمات۔

تیسرا باب :۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں' رشتہ داروں' پڑوسیوں اور غلاموں کے حقوق اور ان کے ساتھ سلوک کی کیفیت اور اس کے اسباب وغیرہ۔
Flag Counter