منقول ہے کہ ایک زاہدجوعارفین میں سے تھا اس سے حضرت سیدنا عیسیٰ بن مالک خولانی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے نقل کیا کہ انہوں نے اسے بیت المقدس کے دروازے پر کھڑا دیکھا شدت غم اور زیادہ رونے کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو رکتے نہیں تھے حضرت سیدنا عیسیٰ بن مالک صفرماتے ہیں جب میں نے اسے اس پریشان کن حالت میں دیکھا تو میں نے کہا اے زاہد! مجھے کوئی نصیحت فرمائیں جسے میں یاد رکھوں اس نے کہا بھائی ! میں آپ کو کس بات کی نصیحت کروں ؟ اگر تم اس شخص کی طرح رہ سکتے ہو جو درندوں اور زمینی جانوروں سے خوف زدہ ہے اور اسے اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں غفلت میں اس کو کوئی درندہ چیرپھاڑ نہ دے یا بھول ہوجائے تو کیڑے نہ کاٹ لیں چنانچہ وہ رات بھر خوف زدہ رہتا ہے اگرچہ دھوکہ کھانے والے پر امن ہوتے ہیں وہ دن بھر بھی غمگین رہتا ہے اگرچہ نکمے لوگ خوش رہتے ہیں۔ تو تمہیں اسی طرح رہنا چاہئے۔
پھر وہ مجھے چھوڑ کر جانے لگا میں نے کہا اگر مزید کچھ بتائیں تو مجھے فائدہ ہوگا اس نے کہا پیاسے کو جتنا پانی مل جائے اسے کفایت کرتا ہے اور واقعی اس نے صحیح کہا کیوں کہ صاف دل کو ادنٰی خوف بھی حرکت دے دیتا ہے اور سخت دل سے وعظ و نصیحت دور رہتی ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! راہب نے جو درندوں کی مثال بیان کی ہے تو وہ محض فرضی بات نہیں بلکہ حقیقت یہی ہے اگر تم نور بصیرت سے اپنے باطن کو دیکھو تو وہ طرح طرح کے درندوں کے گھیرے میں ہے جیسے غصہ' شہوت' کینہ' حسد' تکبر' خود پسندی اور ریا کاری وغیرہ اوراگر تم ان سے غافل رہو تو یہ (روحانی درندے) تمہیں مسلسل کاٹتے اور نوچتے رہیں گے ۔ ہاں یہ بات ہے کہ وہ تمہیں نظر نہیں آتے لیکن جب پردہ اٹھ جائے گا اور تمہیں قبر میں رکھ دیا جائے گا تو تم ان کو دیکھ لو گے۔ کیونکہ وہ تمہارے سامنے ایسی شکلوں میں آئیں گے جن کو تم دیکھ سکوگے پھر تم اپنی آنکھوں سے بچھوؤں اور سانپوں کو دیکھو گے کہ انہوں نے قبر میں تمہیں گھیر رکھا ہے دراصل یہ وہ خصلتیں ہیں جو اس وقت بھی موجود ہیں۔ لیکن ان کی شکلیں اس دن (قبر میں) نظر آئیں گی اگر تم موت سے پہلے ان کو مارنا چاہو اور مارنے پر قادر بھی ہو تو ان کو مار ڈالو ورنہ دل میں یہ بات پکی