Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
231 - 325
اور عجیب بات تو یہ ہے کہ دنیا میں جب ہم مال کی خواہش کرتے ہیں تو کھیتی باڑی کرتے ہیں' درخت لگاتے ہیں اور تجارت کرتے ہیں نیز دریاؤں اور خشکی کا سفر کرتے ہیں اور جب علمی مرتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو غور وفکر کرتے ہیں اور اس کے حفظ و تکرار کے سلسلے میں مشقت اٹھاتے اور شب بیداری کرتے ہیں یونہی ہم تلاش رزق کے سلسلے میں کوشش کرتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی ضمانت پر اعتماد کرکے گھر میں نہیں بیٹھ جاتے کہ صرف گھر میں بیٹھ کر دعا کریں کہ یا اﷲ ہمیں رزق عطا فرما بلکہ پوری پوری کوشش کرتے ہیں۔

لیکن جب آخرت کی دائمی سلطنت پر نظر کرتے ہیں تو صرف اسی بات پر قناعت کرتے ہیں کہ زبان سے کہہ دیں یا اﷲ ! ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور جس ذات سے ہماری امید وابستہ ہے اور جس کے ڈھیل دینے سے ہم دھوکہ کھائے ہوئے ہیں وہی ہمیں پکار پکار کر کہتا ہے۔
وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾
ترجمہ کنزالایمان : ''اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش''(پارہ۲۷ ' سوره النجم' آیت ۳۹)

اور وہ ارشاد فرماتا ہے۔
وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿۵﴾
ترجمہ کنزالایمان : ''اور ہرگز تمہیں اﷲ کے علم پر دھوکہ نہ دے وہ بڑا فریبی''( پارہ ۲۱'سوره لقمان 'آیت ۳۳)

اور ارشاد فرمایا۔
یٰۤاَیُّہَا الْاِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیۡمِ ۙ﴿۶﴾
ترجمہ کنزالایمان : ''اے آدمی تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے ''( پارہ ۳۰سوره انفطار 'آیت ۶)

پھر یہ سب باتیں ہمیں دھوکے اور آرزؤں کی وادیوں سے نہیں نکالتیں اور نہ ہی ہمیں بیدار کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو یہ نہایت ہی خطرناک بات ہے اگر اﷲ تعالیٰ توبۃ النصُوح کے ذریعے ہم پر اپنا فضل نہ فرمائے اور یوں ہماری اس کمی کا تدارک نہ فرمائے۔ ہم اﷲ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہماری توبہ کو قبول فرمائے۔ بلکہ ہم اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں توبہ کا شوق ڈال دے اور توبہ کے سوال کے لئے محض زبانی حرکت ہی کوکافی نہ سمجھنے کی توفیق دے کیونکہ اس طرح ہم ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے جو کہتے توہیں مگر عمل نہیں کرتے اور سنتے ہیں لیکن قبول نہیں کرتے۔ جب ہم وعظ سنتے ہیں تو روتے ہیں اور جب عمل کا وقت آتا ہے تو نافرمانی کرتے ہیں ۔ذلت و رسوائی کی اس سے بڑی علامت کیا ہوسکتی
Flag Counter