Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
230 - 325
شدت تأثر :
حضرت سیدنا ابن سماک رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے ایک دن کسی مجلس میں وعظ کیا تو لوگوں میں سے ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر کہا اے ابو العباس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)! آپ نے آج ایک ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر ہم اس کے علاوہ کوئی بات نہ سنیں تو بھی کوئی پرواہ نہیں میں نے پوچھا وہ کونسا کلمہ ہے اﷲ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ؟ اس نے کہا آپ کا یہ قول کہ

'' دو جگہ (میں سے ایک میں) ہمیشہ رہنے یعنی جنت یا دوزخ میں ہمیشہ رہنے کے خیال نے خائفین کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ''۔

پھر وہ نوجوان مجھ سے غائب ہو گیا میں نے اسے دوسری مجلس میں تلاش کیالیکن نہ پایا میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ بیمار ہے اور لوگ اس کی عیادت کے لئے جاتے ہیں۔

چنانچہ میں بھی اس کی بیمار پرسی کے لئے گیا اور میں نے کہا اے بھائی میں آپ کو کس حالت میں دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے کہا اے ابو العباس ! یہ آپ کے اسی قول کی وجہ سے ہوا ہے کہ جنت یا دوزخ میں سے کسی ایک مقام پر ہمیشہ رہنے کے خوف نے لوگوں کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ فرماتے ہیں پھر وہ نوجوان انتقال کرگیا اﷲ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے میں نے اسے خواب میں دیکھ کر کہا اے میرے بھائی اﷲ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ اس نے کہا اﷲ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا اور مجھ پر رحم فرمایا نیز مجھے جنت میں داخل کردیا میں نے پوچھا کس عمل کی وجہ سے ؟ اس نے کہا اسی کلمے کی وجہ سے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ان تمام اقعات کو بیان کر کے اپنے آخری کلمات یوں ارشاد فرماتے ہیں

تو انبیاء کرام علیہم السلام، اولیاء عظام اور علماء کرام نیز صالحین (رحمہم اﷲ) کے خوف کا یہ حال تھا اور ہمیں تو ان کی نسبت زیادہ ڈرنا چاہئے لیکن یہ مطلب نہیں کہ جب گناہ زیادہ ہوں تو اس وقت خوف پیدا ہو بلکہ دل کی صفائی اور کمال معرفت کی صورت میں بھی خوف ہونا چاہئے کیونکہ گناہوں کی قلت اور عبادات کی کثرت بے خوفی کا سبب نہیں ہوسکتی بلکہ شہوت نفس کی اطاعت ' بدبختی کا غلبہ اور غفلت نیز دل کی سختی کی وجہ سے اپنے اعمال کو کافی سمجھنے،موت کے قرب کے باوجود بیدار نہ ہونے ' گناہوں کی کثرت کے باوجود حرکت میں نہ آنے' خوف کھانے والوں کے حالات دیکھنے کے باوجود خوف کے پیدا نہ ہونے اوربرے خاتمے کے خوف کے اثر انداز نہ ہونے کی صورت میں یہی ہوسکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں کہ وہ اپنے فضل وکرم سےہمارے احوال کی اصلاح فرمائے اور ان باتوں کا تدارک کرے وہ بھی اس صورت میں کہ اگر محض زبانی سوال بغیر کوشش کے نفع دیتا ہو۔
Flag Counter