Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
229 - 325
گیا اسے بھی اس پر سوار کیا گیا تو تھوڑا ساچلنے کے بعد پل صراط الٹ گیا اور وہ جہنم میں گرگیا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے فرمایا پھر کیا ہوا ؟ اس نے کہا پھر سلیمان بن عبد المالک کو لایا گیا وہ بھی تھوڑا ساچلا تھا کہ پل الٹ گیا اور وہ اسی طرح جہنم میں چلا گیا۔

حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا پھر کیا ہوا ؟ اس نے کہا اے امیر المومنین ! اﷲ تعالیٰ کی قسم پھر آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو لایا گیا یہ سن کر حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اﷲ تعالیٰ نے ایک چیخ ماری اور بیہوش ہو کر گر پڑے وہ آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے پاس کھڑی ہو کر آپ کے کانوں میں کہنے لگی اے امیر المومنین ! اﷲ کی قسم! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نجات پاگئے قسم بخدا ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نجات پاگئے راوی فرماتے ہیں وہ اسی طرح آواز دیتی رہی اور آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) چلاتے اور پاؤں اٹھا اٹھا کرتڑپتے رہے۔

حکایت کیا گیا ہے کہ حضرت سیدنا اویس قرنی رحمہ اﷲ تعالیٰ واعظ کے پاس تشریف لاتے اور اس کے کلام سے روتے جب وہ جہنم کا ذکر کرتا تو حضرت سیدنا اویسص چیخ مارتے پھر اٹھ کر چل پڑتے تو لوگ آپ صکو پاگل پاگل کہتے ہوئے آپ صکے پیچھے لگ جاتے۔

حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا مومن کا خوف اس وقت تک نہیں ٹھہرتا جب تک وہ جہنم کے پل کو اپنے پیچھے نہ چھوڑ دے۔

حضرت سیدنا طاؤس رحمہ اﷲ کے لئے بچھونا بچھایا جاتا آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اس پر لیٹتے اور اس طرح لوٹ پوٹ ہوتے جس طرح گرم کڑاہی میں دانے ادھر ادھر چھلتے ہیں پھر اتر کر بستر کو لپیٹ دیتے اور صبح تک قبلہ رخ ہوجاتے (نماز پڑھتے) اور فرماتے جہنم کے ذکر نے ڈرنے والوں کی نیند اڑادی۔

حضرت سیدنا حسن بصری رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ایک شخص جہنم سے ایک ہزار سال بعد نکالا جائے گا (پھر فرمایا) کاش وہ شخص میں ہوتا آپ نے یہ بات جہنم میں ہمیشہ رہنے اور برے خاتمے کے خوف سے فرمائی۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)چالیس سال تک نہیں ہنسے۔ راوی کہتے ہیں میں جب ان کو بیٹھا ہوا دیکھتا تو یوں معلوم ہوتا گویا وہ ایک قیدی ہیں جنہیں ان کی گردن مارنے کے لئے لایا گیا ہے اور جب وہ گفتگو کرتے تو گویا آخرت کو دیکھ رہے ہیں اور اس کو دیکھ کر بتارہے ہیں اور جب وہ خاموش ہوتے تو گویا ان کی آنکھوں کے درمیان آگ بھڑک رہی ہے اور جب ان پر اس شدتِ غم و حزن کا عتاب کیا گیا تو انہوں نے فرمایا میں اس بات سے بے خوف نہیں ہوں کہ اگر اﷲ تعالیٰ نے میرے بعض ناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر مجھ پر غضب فرمایا اور کہا جاؤ میں تمہیں نہیں بخشتا تو میرا عمل کرنا بے فائدہ ہوگا۔