Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
22 - 325
جائے گا۔ جیسے کوئی آدمی کسی دوسرے کا دل بہلانے کیلئے کسی کی غیبت کرے یا کسی کے مال سے فقیر کو کھانا کھلائے یا حرام مال سے کوئی مسجد،مدرسہ، یا مہمان خانہ بنوائے اور ان سب کاموں میں نیکی کی نِیّت کرے تو اس صورت میں نِیّت کچھ کام نہ دیگی بلکہ شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے برے کام سے اچھا کام مراد لینا مزید برا ہے اگر وہ یہ بات جانتا اور سمجھتا ہے اور پھر بھی ایسا کرتا ہے تو دشمنِ شریعت ہے اور جہالت کی وجہ سے کرتا ہے تب بھی گنہگار تو ضرور ہوگا کیونکہ ہر مسلمان کو طلب علم فرض ہے اور اچھے کاموں کا اچھا ہونا تو شریعت کے علم سے ہی معلوم ہو سکتا ہے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سوچئے تو سہی کہ کسی شر کا خیر ہونا کیسے ممکن ہے یہ بہت بعید ہے لیکن بات دراصل یہ ہے کہ مخفی شہوت اور باطنی خواہشات دل میں غلط فہمی پیدا کر دیتی ہیں کیونکہ جب دل عزت و جاہ حاصل کرنے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کیلئے سرگرم ہوتا ہے تو تمام نفسانی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے اور ایسے میں شیطان کو موقع مل جاتا ہے کہ جاہل آدمی کو دھوکہ دے۔
جہالت سے بڑھ کر۔۔۔۔۔۔ :
حضرت سَیِّدُنَا سہل تستری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں '' جہالت سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں ہوتی''۔آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے پوچھا گیا، کیا آپ کے نزدیک کوئی چیز جہالت سے بھی زیادہ بری ہے، فرمایا، ہاں اور وہ یہ کہ بندے کو اپنی جہالت کی بھی خبر نہ ہو (اور وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھدار اور فھیم خیال کرتا رہے)۔ اور آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے سچ فرمایا ، کیونکہ جب کوئی شخص اپنی جہالت سے غافل ہوتا ہے تو سیکھنے کا دروازہ مکمل طور پر بند ہوجاتا ہے بھلا وہ شخص کیا سیکھے گا جو اپنی نظر میں بہت بڑا عالم اورسمجھدار ہو۔

اسی طرح علم کے ساتھ اللہ (عزوجل) کی عبادت سب سے افضل ہے اور علم کی بنیاد یہ ہے کہ بندے کو علم کے بارے میں معلومات ہوں یعنی وہ اپنے علم کو خود جانے بخلاف اس جاہل کے جو اپنی جہالت کو نہیں سمجھتا اور جہالت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ اپنی جہالت کو نہ سمجھے کیونکہ جو شخص علم نافع اور نقصان دہ علم میں تمیز نہیں کر سکتا وہ اُن بے فائدہ اور خود ساختہ علوم میں گرفتار رہتا ہے جس پر لوگ اوندھے پڑے ہیں اور جو علم حصول دنیا کا ذریعہ ہیں یہ بات جہالت کا مادّہ اور فسادِ عالم کی بنیاد ہے۔

مطلب یہ ہے کہ جو شخص جہالت کی وجہ سے نیکی حاصل کرنے کے لئے گناہ کو ذریعہ بناتا ہے اسکا عذر قبول نہیں کیا جائے گا رب لم یزل (عزوجل) فرماتا ہے :
 اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾
Flag Counter