نے اسے سلام کیا لیکن اسے ہمارے سلام کا پتہ نہ چلا میں نے بلند آواز سے کہا سنو ! کل لوگوں نے ایک جگہ کھڑا ہونا ہے۔
شیخ نے کہا ! کس کے سامنے کھڑا ہونا ہے پھر وہ حیران ہو کر کھڑا ہوگیا اور اس کا منہ کھلا تھا آنکھیں کھلی رہ گئیں وہ کمزور آواز کے ساتھ اوہ' اوہ کرنے لگا حتی کہ یہ آواز بھی ختم ہوگئی اس کی بیوی نے کہا نکل جاؤ تمہیں اس وقت کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پھر اس کے بعد جب میں نے لوگوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ تین کو افاقہ ہوگیا تھا اور تین اپنے رب سے جاملے تھے جب کہ شیخ تین دن سے اسی طرح حیران اور خاموش کھڑا تھا حتی کہ اس نے کوئی فرض نماز بھی ادا نہ کی پھر تین دن بعد اسے ہوش آیا۔
حضرت سیدنا یزید بن اسود جو کہ ابدال مشہورتھے اور انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ نہ تو کبھی ہنسیں گے نہ پہلو کے بل آرام کریں گے اور نہ کبھی مرغن چیز کھائیں گے حتی کہ ان کا انتقال ہوگیا۔
ایک مرتبہ حجاج نے حضرت سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اﷲ تعالیٰ سے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) بالکل نہیں ہنستے انہوں نے فرمایا میں کیسے ہنسوں جب کہ جہنم کی آگ بھڑکائی جاچکی ہے طوق تیار کردیئے گئے اور جہنم کے فرشتے مستعد ہیں۔
ایک شخص نے حضرت سیدنا حسن بصری رحمہ اﷲ تعالیٰ سے پوچھا اے ابو سعید (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)! آپ نے صبح کیسے کی ؟ انہوں نے فرمایا اچھی طرح ۔۔۔۔۔۔ پوچھا کیا حال ہے ؟ اس پر حضرت سیدنا حسن (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)مسکرائے اور فرمایا تم میری حالت پوچھتے ہو ان لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو کشتی میں سوار ہوئے جب دریا کے درمیان پہنچے تو کشتی ٹوٹ گئی اور ان میں سے ہر ایک' ایک لکڑی کے ساتھ لٹک گیا تو وہ کس حال میں ہوگا؟ اس نے کہا سخت حالت میں ہوگا حضرت سیدنا حسن رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا میری حالت ان کی حالت سے بھی زیادہ سخت ہے۔