Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
226 - 325
دروازہ کھول دے تو اس نے کھول دیا پھر مجھے اپنی عقل زائل ہونے کاڈر محسوس ہوا تو میں نے عرض کی اے میرے رب (عزوجل)! میری طاقت کے مطابق رکھناتو اس سے میرا دل تھم گیا۔

حضرت سیدنا عبد اﷲ بن عمرو بن عاص (رضی اﷲ تعالیٰ عنہما) نے فرمایا روؤ اگر رونا نہ آتا ہو تو رونے کی کوشش کرو پس اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کسی کو حقیقت کاعلم ہوتا تو وہ اس قدر چیختا کہ اس کی آواز ٹوٹ جاتی اور اس طرح نماز پڑھتا کہ اس کی پیٹھ ٹوٹ جاتی گویا انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس حدیث کی طرف اشارہ کیا آپ نے ارشاد فرمایا۔
لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْراً۔
''اگر تم وہ بات جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ ''(صحیح بخاری جلد ۲ ص ۶۶۵' کتاب التفسیر)

نیزحضرت سیدنا عنبری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ اصحاب حدیث حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رحمہ اﷲ تعالیٰ کے دروازے پر جمع ہوئے تو آپ صنے روشندان سے ان کو جھانکا (تو انہوں ے دیکھا کہ) آپ (صحیح بخاری جلد ۲ ص ۶۶۵' کتاب التفسیر) رو رہے تھے اور آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کی داڑھی مبارک ہل رہی تھی آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے فرمایا تم پر قرآن پاک پڑھنا لازم اور نماز کی پابندی ضروری ہے اور یہ وقت حدیث کا نہیں یہ رونے' گڑ گڑانے' عاجزی اور ڈوبنے والے کی طرح پکارنے کا وقت ہے اس زمانے میں اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنی جگہ چھپاؤ اور دل کا علاج کرو اچھی باتوں کو اختیار کرو اور بری باتوں کو چھوڑ دو۔

ایک دن حضرت سیدنا فضیل رحمہ اﷲ تعالیٰ کو دیکھا گیا کہ آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) چل رہے تھے پوچھا گیا کہاں تشریف لے جارہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں گویا وہ خوف کی حالت میں چل رہے تھے۔

حضرت سیدنا ذر بن عمر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے اپنے باپ حضرت سیدنا عمر بن ذر (رحمہما اﷲ) سے پوچھا کیا وجہ ہے کہ دوسرے لوگ گفتگو کرتے ہیں تو کوئی بھی نہیں روتا اور جب آپ کلام فرماتے ہیں تو ہر طرف سے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے انہوں نے فرمایا جس عورت کا بچہ گم ہوجائے اس کے رونے اور اجرت لے کر رونے والی کے رونے میں فرق ہوتاہے۔

منقول ہے کہ ایک جماعت ایک عابد کے پاس کھڑی ہوئی اور وہ رو رہا تھا انہوں نے کہا اﷲ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے رونے کی کیا وجہ ہے ؟ اس عابد نے جواب دیا ایک زخم ہے جس کو ڈرنے والے لوگ اپنے دلوں میں پاتے ہیں پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا اﷲ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے لئے جوہیبت ناک ندا ہوگی۔
Flag Counter