Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
224 - 325
گئیں آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کا طریقہ تھا کہ رات کو اپنا جسم ٹٹولتے کہ کہیں مسخ تو نہیں ہوگیا اور جب کبھی آندھی چلتی یا بجلی گرتی یا غلّہ مہنگا ہوتا توفرماتے میری وجہ سے لوگوں کو یہ مصیبت پہنچی ہے اگر عطاء مرجائے تو لوگوں کو سکون ملے۔
ندامت :
یہی حضرت سیدنا عطاء رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم عتبہ غلام کے ہمراہ باہر نکلے وہ فجر کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھتے تھے اور طویل قیام کی وجہ سے ان کے پاؤں سوج گئے تھے اور آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں چمڑی ہڈیوں سے مل گئی تھی اور رگیں باریک تاروں کی طرح معلوم ہوتی تھیں وہ ایسے ہوگئے تھے گویا ان کے چمڑے تربوز کے چھلکے ہوں اور گویا وہ قبروں سے نکالے گئے ہیں وہ بتاتے تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے کس طرح اطاعت گزار لوگوں کو عزت بخشی اور نافرمان لوگوں کو ذلیل کیا وہ چل ہی رہے تھے کہ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک بیہوش ہو کر گر پڑا اس کے دوست اس کے گرد بیٹھ کر رونے لگے وہ دن سخت سرد تھا لیکن اس کے باوجود اس کی پیشانی پر پسینہ آیا ہوا تھا انہوں نے پانی لا کر اس کے چہرے پر مارا تو اسے کچھ افاقہ ہوا انہوں نے اس سے ماجرا پوچھا تو اس نے کہا مجھے یاد آگیا تھا کہ میں نے اس جگہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی۔

حضرت سیدنا صالح المری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے عبادت گزار لوگوں میں سے ایک کے پاس یہ آیت پڑھی۔
یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡہُہُمْ فِی النَّارِ یَقُوۡلُوۡنَ یٰلَیۡتَنَاۤ اَطَعْنَا اللہَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوۡلَا ﴿۶۶﴾
ترجمہ کنزالایمان : ''جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کر آگ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے 

ہائے کسی طرح ہم نے اﷲ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا '' (پارہ۲۲ ' سوره احزاب 'آیت ۶۶)

یہ سن کروہ زاہد بیہوش ہوگیا اور جب افاقہ ہوا تو اس نے کہا اے صالح ! مزید پڑھئے کیوں کہ غم ہورہا ہے پس میں نے پڑھا۔
کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخْرُجُوۡا مِنْہَا مِنْ غَمٍّ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا ٭
ترجمہ کنزالایمان : ''جب گھٹن کے سبب اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں لوٹا دئے جائیں گے'' (پارہ۱۷ 'سوره حج 'آیت ۲۲)

یہ آیت سن کر اس کی روح پرواز کر گئی اور وہ گر پڑا (رحمۃاﷲ علیہ)۔

ایک روایت میں ہی کہ حضرت سیدنا زرارہ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے یہ آیت پڑھی
Flag Counter