Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
223 - 325
تعالیٰ پر جرأت کی ہے یعنی میں نے اس سے جنت کا سوال کیا ہے۔

حضرت سیدنا محمد بن کعب قرظی رحمہ اﷲ تعالیٰ کی والدہ نے ان سے فرمایا اے بیٹے ! میں تجھے بچپن میں بھی پاک جانتی تھی اور بڑا ہونے کے بعد بھی پاکیزہ ہی جانتی ہوں لیکن تو نے اپنے اوپر ہلاکت خیز مسلط کردیا ہے کیونکہ تو دن رات عبادت کرتا ہے انہوں نے فرمایا اے ماں ! اﷲ تعالیٰ میرے اعمال پر مطلع ہے اور اگر میرے اعمال میں کچھ گناہ ہوئے جن پر وہ ناراض ہوگیا تو میں کس بات سے نڈر ہوجاؤں اگر اﷲ تعالیٰ فرمائے کہ مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم میں تجھے نہیں بخشو ں گا۔

اور مقامِ خوف پر متمکن ہو کرحضرت سیدنا فضیل رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں میں کسی نبی مرسل (علیہ السلام)، مقرب فرشتے اور صالح بندے پر رشک نہیں کرتابلکہ میرے لئے قابلِ رشک وہ ہے جو پیدا ہی نہیں ہوا۔

ایک روایت میں ہے کہ انصار میں سے ایک نوجوان کو دوزخ کا ڈر ہوا وہ روتے رہے حتی کہ گھر میں مقید ہو کر رہ گئے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے اور ان کو گلے لگایا تو وہ فوت ہو کر گر پڑے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔
جَھِّزُوْا صَاحِبَکُمْ فَاِنَّ الْفَرَقَ مِن النَّارِ فَتَّتْ کَبِدَہ'۔
اپنے ساتھی کے کفن دفن کا انتظام کرو جہنم کے خوف نے اس کے جگر کو ٹکڑے کردیا ہے۔ (المستدرک للحاکم جلد ۲ ص ۴۹۴ کتاب التفسیر)

حضرت سیدنا ابن میسرہ رحمہ اﷲ تعالیٰ سے مروی ہے جب آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)بستر پر تشریف لے جاتے تو فرماتے کاش میری ماں مجھے نہ جنتی ان کی ماں نے فرمایا اے میسرہ ! اﷲ تعالیٰ نے تجھ سے اچھا سلوک کیا تجھے اسلام کی ہدایت دی انہوں نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے لیکن اﷲ تعالیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہم جہنم میں جائیں گے اور یہ نہیں فرمایا کہ اس سے نکل جائیں گے (یعنی وارد کا لفظ ہے صادر کا نہیں) 

حضرت سیدنا فرقد سیخی سے کہا گیا کہ ہمیں سب سے زیادہ تعجب خیز بات بتائیں جو بنی اسرائیل سے آپ تک پہنچی ہو انہوں نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بیت المقدس میں پانچ سو کنواری لڑکیاں داخل ہوئیں جن کا لباس کمبل اور ٹاٹ تھا۔ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے ثواب اور عذاب کے بارے میں گفتگو کی تو وہ سب کی سب ایک ہی دن میں مرگئیں۔

اسی طرح حضرت سیدنا عطاء سلمی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) خوف کھانے والے لوگوں میں سے تھے وہ اﷲ تعالیٰ سے کبھی بھی جنت کا سوال نہ کرتے بلکہ محض عفوو درگزر کا سوال کرتے ان سے بیماری کی حالت میں کہا گیا کیا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کو کسی چیز کی خواہش نہیں ؟ انہوں نے فرمایا جہنم کے خوف نے میرے دل میں خواہش کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے چالیس سال تک نہ تو آسمان کی طرف سر اٹھایا اور نہ ہی ہنسے۔ ایک دن انہوں نے سر اٹھایا تو گھبرا کر گر پڑے اور ان کی آنتیں پھٹ
Flag Counter