| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ہوتی ہے جب نِیّت اور ارادہ پختہ ہو اگرچہ عمل کو کسی رکاوٹ کی وجہ سے پورا نہ کیا جا سکے لہٰذا اللہ تعالیٰ تک ہمارے جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ رب کریم توتقوے پر نظر فرماتا ہے اور تقویٰ دل کے اندر ہوتا ہے اسی لئے اللہ کے محبوب دانائے غیوب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
اِنَّ قَوْمًا بِالْمَدِیْنَۃِ قَدْ شَرَکُوْنَا فِیْ جِھَادِنَا
ترجمہ : ''یعنی بےشک مدینہ طیبہ میں ایک جماعت ایسی ہے جو ہمارے ساتھ (اپنی نِیّت کی وجہ سے) جہاد میں شریک ہے (اگرچہ عملی طور پر شریک نہیں)'' (السنن الکبریٰ للبیہقی، ج ۹ ، ص ۲۴، کتاب السیر) کیونکہ انکے دلوں میں بھلائی کا سچا ارادہ تھا وہ مال و جان خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے طلب شھادت اور اللہ (عزوجل) کے نام کو بلند کرے کی تڑپ انکے دلوں میں اسی طرح موجود تھی جسطرح جہاد کیلئے نکلنے والوں کے دلوں میں تھی۔ وہ لوگ اگرچہ اپنے جسموں کے ساتھ جہاد میں شریک نہیں تھے کیونکہ انکو کچھ مخصوص رکاوٹیں در پیش جنکا تعلق ظاہری اعضائے بدن سے ہے دل سے نہیں اور جہاد کا مطلب بھی دل کو محض اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرنا ہے اور یہ صفت انہیں حاصل تھی۔ لہٰذا وہ بھی شریک جہاد شمار کئے گئے۔ ان معانی کے اعتبار سے وہ تمام احادیث سمجھ میں آجائیں گی جو نِیّت کی فضیلت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔
نِیّت سے متعلق اعمال کی فضیلت:
اگر چہ اعمال کی کئی اقسام ہیں مثلا ، قول و فعل، حرکت و سکون، حصولِ نفع، دفعِ نقصان، ذکر و فکر وغیرہ۔ لیکن بنیادی طور پر اعمال کی تین قسمیں ہیں۔ (۱) گناہ (جنکوکرنا رب عزوجل کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے)۔(۲)عبادات (جنکے کرنے سے ثواب ہوتا ہے)۔(۳) مباح (یعنی وہ کام جنہیں کرنے پر نہ کوئی ثواب ہے اور نہ گناہ اسی طرح نہ کرنے پر بھی کوئی مواخذہ نہیں)
پہلی قسم ۔۔۔۔۔۔! گناہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ گناہوں میں نِیّت کی وجہ سے کوئی تبدیلی نہیں آتی لہٰذا گناہ کرتے وقت اگر کوئی شخص اچھی نیت کرلے تو ہرگز وہ گناہ نیکی میں تبدیل نہ ہوگا۔ کسی جاہل کو اس حدیث پاک '' اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ''یعنی اعمال کا دارومدار نِیّت پر ہے ۔سے یہ نہیں سمجھنا چاہئیے کہ نِیّت سے گناہ نیکی میں تبدیل ہو