Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
218 - 325
صبر کرنے میں مدد دیتے اور دنیا سے دور رکھتے ہیں میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو کی روٹی کھانا اور خس و خاشاک پر کتوں کے ساتھ سوجانا جنت الفردوس کی طلب میں بہت تھوڑی بات ہے۔

اور کہا گیا ہے کہ حضرت سیدنا خلیل اﷲ علیہ السلام جب اپنی خطاؤں کو یاد کرتے تو آپ(علیہ السلام) پر غشی طاری ہوجاتی اور آپ(علیہ السلام) کے دل کا اضطراب کئی میلوں تک سنا جاتا ایک مرتبہ حضرت سیدناجبریل علیہ السلام نے آپ (علیہ السلام)کے پاس حاضر ہو کر عرض کی کہ آپ ں کو آپ کا رب (عزوجل) سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کیا ایک خلیل اپنے خلیل سے ڈرتا ہے انہوں نے فرمایا اے جبریل(علیہ السلام)! جب میں اپنی خطا کو یاد کرتا ہوں تو اپنا خلیل ہونا بھول جاتا ہوں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ سب باتیں بیان کرکے امام غزالی علیہ الرحمۃ بڑے میٹھے انداز میں ہمیں بھی ان کے حالات پر غور کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

تو یہ انبیاء کرام علیہم السلام کے احوال ہیں ان کو پیش نظر رکھیں اور خوب غور کریں یہ لوگ باقی مخلوق کی نسبت اﷲ تعالیٰ اور اس کی صفات کو زیادہ جاننے والے تھے ان سب پر اور اﷲ تعالیٰ کے تمام مقرب بندوں پر اُس کی رحمت ہو ۔اﷲ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
فصل ۔۔۔۔۔۔ ۹

                 شدتِ خوف کے سلسلے میں صحابہ کرام'

تابعین اور اولیاء کرام (علیہم الرضوان)کے حالات:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق (علیہ السلام)نے ایک پرندے سے فرمایا اے پرندے ! کاش میں تمہاری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔

حضرت سیدنا ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹا جاتا حضرت سیدنا طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی طرح فرمایا۔

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ مجھے مرنے کے بعد اٹھایا نہ جائے۔ ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا میں چاہتی ہوں کہ میں بھولی بسری ہوجاؤں۔

ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب قرآن پاک کی کوئی آیت سنتے تو خوف کی
Flag Counter