صبر کرنے میں مدد دیتے اور دنیا سے دور رکھتے ہیں میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو کی روٹی کھانا اور خس و خاشاک پر کتوں کے ساتھ سوجانا جنت الفردوس کی طلب میں بہت تھوڑی بات ہے۔
اور کہا گیا ہے کہ حضرت سیدنا خلیل اﷲ علیہ السلام جب اپنی خطاؤں کو یاد کرتے تو آپ(علیہ السلام) پر غشی طاری ہوجاتی اور آپ(علیہ السلام) کے دل کا اضطراب کئی میلوں تک سنا جاتا ایک مرتبہ حضرت سیدناجبریل علیہ السلام نے آپ (علیہ السلام)کے پاس حاضر ہو کر عرض کی کہ آپ ں کو آپ کا رب (عزوجل) سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کیا ایک خلیل اپنے خلیل سے ڈرتا ہے انہوں نے فرمایا اے جبریل(علیہ السلام)! جب میں اپنی خطا کو یاد کرتا ہوں تو اپنا خلیل ہونا بھول جاتا ہوں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ سب باتیں بیان کرکے امام غزالی علیہ الرحمۃ بڑے میٹھے انداز میں ہمیں بھی ان کے حالات پر غور کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
تو یہ انبیاء کرام علیہم السلام کے احوال ہیں ان کو پیش نظر رکھیں اور خوب غور کریں یہ لوگ باقی مخلوق کی نسبت اﷲ تعالیٰ اور اس کی صفات کو زیادہ جاننے والے تھے ان سب پر اور اﷲ تعالیٰ کے تمام مقرب بندوں پر اُس کی رحمت ہو ۔اﷲ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔