| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
وجہ سے بیہوش ہو کر گر پڑتے اور کئی دنوں تک ان کی عیادت ہوتی ایک دن آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا کاش میں یہ تنکا ہوتا کاش میرا ذکر نہ ہوتا کاش مجھے بھلا دیا گیا ہوتا کاش مجھے میری ماں جنم نہ دیتی۔ نیز حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چہرے پر آنسو کی دو سیاہ لکیریں تھیں آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے جو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اپنا غصہ نہیں نکالتا اور جو اﷲ تعالیٰ کے ہاں تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ اپنی مرضی نہیں کرتا اور اگر قیامت نہ ہوتی تو ہم کچھ اور ہی دیکھتے۔ اور جب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔
اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ۪ۙ﴿۱﴾
ترجمہ کنزالایمان: ''جب دھوپ لپیٹی جائے گی'' یعنی سوره تکویر پڑھتے ہوئے اس کی آیت۔
وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿۪ۙ۱۰﴾
ترجمہ کنزالایمان: ''اور جب نامئہ اعمال کھولے جائیں '' تک پہنچے تو بیہوش ہو کر گر پڑے۔ ایک دن آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کسی آدمی کے مکان کے قریب سے گزرے وہ نماز میں سوره '' الطور'' پڑھ رہا تھا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کھڑے ہو کر سنتے رہے جب وہ اس آیت پر پہنچا۔
اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾مَّا لَہٗ مِنۡ دَافِعٍ ۙ﴿۸﴾
ترجمہ کنزالایمان : ''بے شک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ''( پارہ۲۷'سوره طور' آیت ۷) تو خوفِ خدا عزّوجل کی ہیبت سے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اپنے دراز گوش سے اتر پڑے اور دیوار سے ٹیک لگا کر دیر تک کھڑے رہے پھر گھر واپس لوٹے تو ایک مہینہ بیمار رہے لوگ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی عیادت کرنے کیلئے آتے رہے لیکن پتہ نہ چلا کہ بیماری کیا ہے۔ اسی طرح حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے نماز فجر سے سلام پھیرا اس وقت آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو کوئی رنج تھا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اپنا ہاتھ الٹ پلٹ کررہے تھے پھر فرمانے لگے میں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ کرام (علیہ السلام) کو دیکھا ہے لیکن آج ان جیسا کوئی نظر نہیں آتا وہ اس حالت میں صبح کرتے کہ بال بکھرے ہوتے 'رنگ زرد ہوتا اور چہرے پر
(پارہ۳۰ 'سوره تکویر 'آیت ۱)
(پارہ ۳۰'سوره تکویر 'آیت ۱۰)