بھر وہاں ہی رہتے حتی کہ پندرہ سال گزر گئے اس کے بعد آپ (علیہ السلام) وہاں سے باہر تشریف لائے اور پہاڑوں اور گھاٹیوں کے غاروں کواپنامسکن بنالیا جب آپ(علیہ السلام)کے والدین آپ (علیہ السلام)کی تلاش میں نکلے تو آپ(علیہ السلام) کو بحیرئہ اردن کے کنارے پایا آپ (علیہ السلام)نے اپنے پاؤں پانی میں تر کر رکھے تھے اور قریب تھا آپ(علیہ السلام)پیاس سے انتقال فرماجاتے اور آپ اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں اس طرح مناجات فرمارہے تھے یا اﷲ ! تیری عزت وجلال کی قسم میں اس وقت تک ٹھنڈا پانی نہیں پیؤں گا جب تک مجھے معلوم نہ ہوجائے کہ تیرے ہاں میرا کیا مقام ہے ؟ آپ(علیہ السلام)کے والدین نے فرمایا کہ جوکی اس روٹی سے روزہ افطار کیجئے جو ان دونوں کے پاس تھی اور یہ پانی بھی پی لیں اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردینا انہوں نے بات مان لی چنانچہ آپ(علیہ السلام)کے والدین آپ کو دوبارہ بیت المقدس لے آئے۔
اسی طرح مروی ہے کہ آپں جب نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو روتے حتی کہ آپ(علیہ السلام)کے ساتھ درخت اور ڈھیلے بھی رونے لگتے اور آپ (علیہ السلام)کے رونے پر حضرت سیدنا ذکریا علیہ السلام بھی روتے یہاں تک کہ بیہوش ہوجاتے ۔آپ مسلسل روتے رہتے تھے حتی کہ آنسوؤں نے رخسار کے گوشت کو گلاکر ختم کر دیا تھا اور دیکھنے والوں کو آپ(علیہ السلام)کی داڑھیں نظر آنے لگیں تھیں اس پر آپ(علیہ السلام)کی والدہ نے فرمایا اگر تم کہو تو میں کوئی ایسی چیز بناؤں جس کی وجہ سے تمہاری داڑھیں لوگوں کو نظر نہ آئیں ؟ آپ (علیہ السلام)نے اجازت دے دی تو انہوں نے نمدے کے ایک ٹکڑے کو دوہرا کرکے آپ ں کے گالوں پر چپٹا دیا ۔ لیکن حالت یہ تھی کہ جب آپ (علیہ السلام) نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ وہ نمدے آنسوؤں سے بھیگ جاتے تو آپ ں کی والدہ آکر ان کو نچوڑتیں جب آپ(علیہ السلام)اپنے آنسوؤں کو والدہ کے بازو پر جاری ہوتے ہوئے دیکھتے تو بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے یا اﷲ ! یہ میرے آنسو ہیں اور یہ میری ماں ہیں اور میں تیرا بندہ ہوں اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔