حکم دیتے کہ وہ یوں پکارے سنو ! حضرت سیدنا داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ جس کا کوئی دوست اور قریبی تھا وہ چار پائی لا کر اس کو اٹھا لے کیوں کہ جو لوگ آپ(علیہ السلام) کے ساتھ تھے ان کو جنت اور دوزخ کے ذکر نے موت سے ہم آغوش کردیا ہے۔
تو ایک عورت چار پائی لاتی اور اپنے قریبی کو اٹھا کر لے جاتی اور کہتی اے وہ شخص جو جہنم کے ذکر سے مر گیا اے وہ جو اﷲ تعالیٰ کے خوف سے ہلاک ہوا پھر جب حضرت سیدنا داؤد(علیہ السلام) کو افاقہ ہوتا اور آپ(علیہ السلام) اپنا دست مبارک اپنے سر پر رکھتے اور اپنی عبادت گاہ میں داخل ہو کر اسے بند کردیتے اور عرض کرتے اے داؤد کے معبود ! کیا تو داؤد پر غضبناک ہے اور اپنے رب (عزوجل) سے مسلسل مناجات کرتے پھر حضرت سیدنا سلیمان ں حاضر ہوکر دروازے پر بیٹھ جاتے اور اندر جانے کی اجازت طلب کرتے پھر اندر داخل ہوتے اور آپ(علیہ السلام)کے ساتھ جوکی ایک روٹی ہوتی آپ(علیہ السلام) عرض کرتے اے ابا جان اس روٹی کے ذریعے طاقت حاصل کیجئے چنانچہ آپ(علیہ السلام) اس میں سے جس قدر اﷲ تعالیٰ چاہتا' تناول فرماتے اور پھر باہر نکل کر بنی اسرائیل کے درمیان موجود رہتے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح حضرت سیدنا یزیدر قاشی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ایک دن حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام لوگوں کو وعظ کرنے اور ان کو ڈرانے کے لئے باہر تشریف لائے تو آپ (علیہ السلام)چالیس ہزار افراد کے ساتھ تھے پھر ان میں سے تیس ہزار مرگئے اور دس ہزار آپ (علیہ السلام)کے ساتھ واپس آئے فرماتے ہیں آپ (علیہ السلام) کی دو لونڈیاں تھیں ۔جب آپ(علیہ السلام) پر خوف کی حالت طاری ہوتی اور گر کر تڑپنے لگتے تو وہ دونوں آپ (علیہ السلام)کے سینے اور پاؤں مبارک پر بیٹھ جاتیں تاکہ کہیں اعضاء اور جوڑ بکھرنے سے آپ ں کا انتقال نہ ہوجائے۔
حضرت سیدنا عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہما السلام بیت المقدس میں داخل ہوئے اور اس وقت آپ ں کی عمر آٹھ سال تھی۔ آپ (علیہ السلام)نے عابدین کو دیکھا کہ انہوں نے بالوں اور اون سے بنے ہوئے کپڑے پہن رکھے تھے اور مجتہدین کو دیکھا کہ انہوں نے گلے کی ہڈیاں پھاڑ کر ان میں زنجیریں ڈال رکھی تھیں اور اپنے آپ کو بیت المقدس کے اطراف میں باندھ رکھا تھا انہیں دیکھکر آپ(علیہ السلام) کے دل میں خوفِ خدا عزّوجل کی مزید فراوانی ہوگئی۔
چنانچہ آپ(علیہ السلام)اپنے والد ماجد کی طرف لوٹ آئے پھر کچھ بچوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے انہوں نے آپ (علیہ السلام) کو کھیلنے کی دعوت دی تو آپ(علیہ السلام)نے فرمایا مجھے کھیلنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا راوی کہتے ہیں پھر آپ(علیہ السلام)اپنے والدین کے پاس تشریف لائے اور ان سے جانوروں کے بالوں سے بنے ہوئے لباس کی فرمائش کی چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر آپ (علیہ السلام)بیت المقدس کی طرف لوٹے دن کو ان عبادت گزاروں کی دیکھ بھال فرماتے اور رات