اے داؤد( علیہ السلام ) آدم( علیہ السلام) میری مخلوق میں سے تھے میں نے ان کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیااور ان میں اپنی روح پھونکی' اپنے فرشتوں سے ان کو سجدہ کروایا اور ان کو اپنی کرامت وعزت کا لباس پہنا یا ان کو اپنے وقار کا تاج پہنایا انہوں نے تنہائی کی شکایت کی تو میں نے حوّا (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کو ان کے نکاح میں دیا 'ان کو اپنی جنت میں ٹھہرایا' لیکن انہوں نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی تو میں نے ان کو اپنے قرب سے دور کردیا اے داؤد ! مجھ سے سنو اور میں سچ ہی کہتا ہوں تم نے ہمارا حکم مانا تو ہم نے تمہاری دعا قبول فرمائی تم نے ہم سے سوال کیا توہم نے تمہیں عطا کیا تم سے لغزش ہوئی تو ہم نے تمہیں مہلت دی اگر تم ہماری بارگاہ میں توبہ کروگے تو ہم قبول فرمائیں گے۔
حضرت سیدنا یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام جب آہ و زاری کرنا چاہتے تو اس سے پہلے سات دن ٹھہرتے نہ کھاناکھاتے نہ پانی پیتے اور نہ عورتوں کے قریب جاتے جب ایک دن رہتا تو ان کے لئے ایک منبر جنگل میں لایا جاتا پھر آپ حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے کہ وہ بلند آواز سے شہروں اور اردگرد والوں کو آواز دیں تالابوں' ٹیلوں پہاڑوں' جنگلوں اور یہود نصاریٰ کی عبادت گاہوں میں اعلان کریں ۔
چنانچہ ندادی جاتی کہ سنو ! جو شخص حضرت سیدنا داؤد (علیہ السلام) کا نوحہ سننا چاہے وہ آئے منقول ہے کہ صحراؤں اور ٹیلوں سے وحشی آتے جنگلوں سے درندے اور پہاڑوں سے کیڑے مکوڑے ' گھونسلوں سے پرندے آتے اور اس دن تمام لوگ جمع ہوجاتے ۔اس کے بعد حضرت سیدنا داؤد(علیہ السلام) تشریف لا کر منبر پر چڑھ جاتے اور بنی اسرائیل آپ (علیہ السلام)کے اردگرد جمع ہوجاتے ۔حضرت سیدنا سلیمان (علیہ السلام) آپ (علیہ السلام)کے سر مُبارک کے پاس کھڑے ہوتے پھر آپ (علیہ السلام)اپنے رب (عزوجل) کی حمد و ثنا سے شروع کرتے اور لوگ چیخیں مارتے اور دھاڑیں مار مار کر روتے پھر آپ (علیہ السلام)جنت اور دوزخ کا ذکر کرتے تو کیڑے مکوڑے اور کچھ وحشی' درندے اور انسان مرجاتے پھر قیامت کے ہولناک منظر کاذکر کرتے اور اپنے اوپر نوحہ کا بیان کرتے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک تعداد خوفِ خدا (عزوجل)کے باعث مرجاتی پس جب حضرت سیدنا سلیمان مرنے والوں کی کثرت دیکھتے تو عرض کرتے اے ابا جان !آپ(علیہ السلام)نے سننے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا' بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگ مر گئے ' وحشی جانور اور زمین کے اندر رہنے والے جانور (اور کیڑے مکوڑے) مرگئے پس آپ (علیہ السلام) دعا شروع کرتے۔
جب آپ(علیہ السلام) دعا ہی میں ہوتے کہ بنی اسرائیل کے بعض عبادت گزار پکارتے اے داؤد ں ! آپ(علیہ السلام)نے اپنے رب (عزوجل)سے جزا طلب کرنے میں جلدی کی یہ سن کر آپ (علیہ السلام) بیہوش ہو کر زمین پر تشریف لے آتے جب حضرت سیدنا سلیمان (علیہ السلام) یہ صورت حال دیکھتے تو ایک چار پائی لا کر آپ (علیہ السلام)کو اس پر اٹھا لیتے پھر ایک ندا دینے والے کو