Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
212 - 325
''حضرت سیدنا جبریل علیہ السلام میرے پاس جب بھی آئے اﷲ جبار کے خوف کی وجہ سے کانپ رہے ہوتے تھے ۔''

مروی ہے کہ جب ابلیس کا مردود ہونا ظاہر ہوا تو حضرت سیدنا جبریل اور حضرت سیدنا میکائیل علیہما السلام رونے لگے ۔اﷲ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں کیوں روتے ہو؟ انہوں نے عرض کی اے رب عزّوجل! ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہیں اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم اسی طرح رہنا اور کبھی میری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہ ہونا۔

اسی طرح حضرت سیدنا محمد بن منکدر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب آگ کو پیدا کیا گیا تو فرشتوں کے دل اپنی جگہ سے اڑنے لگے پھر جب انسانوں کو پیدا کیا گیا تو واپس آگئے۔

حضرت سیدنا انس( رضی ا ﷲ تعالیٰ عنہُ) سے مروی ہے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا جبریل علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے میں حضرت سیدنا میکائیل علیہ السلام کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھتا ؟ حضرت سیدنا جبریل علیہ السلام نے جواب دیا جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے میکائیل علیہ السلام نہیں ہنسے ۔ (مجمع الزوائد جلد ۱۰ ص ۳۸۵ کتاب صفتہ النار)

کہا جاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے کچھ ایسے فرشتے ہیں کہ جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ان میں سے کوئی بھی اس ڈر سے نہیں ہنسا کہ کہیں اﷲ تعالیٰ ان پر غضب نہ فرمائے اوروہ ان کو جہنم میں عذاب دے۔

حضرت سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہمراہ باہر نکلا حتی کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انصار کے ایک باغ میں تشریف لے گئے اور کھجوریں اتار اتار کرتناول فرمانے لگے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن عمر ! کیا بات ہے تم نہیں کھاتے ؟ میں نے عرض کی یار سول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ! مجھے طلب نہیں اس پر اﷲ (عزوجل) کے خزانوں کے امین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تو خواہش ہے اور یہ چوتھی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں چکھا اور نہ ہی میں نے کھانا پایا اور اگر میں اپنے رب (عزوجل) سے سوال کرتا تو وہ مجھے قیصر وکسریٰ کی حکومت عطا فرماتا تو ابن عمر !اُس وقت کیا حال ہوگا جب