Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
213 - 325
تم ایسی قوم میں رہو گے جو ایک سال کا رزق جمع کرناپسند کریں گے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین کمزور ہوگا حضرت سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں اﷲ کی قسم نہ ہم وہاں سے ہٹے اور نہ ہی کھڑے ہوئے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی۔
وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ دَآبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَہَا ٭ۖ اَللہُ یَرْزُقُہَا وَ اِیَّاکُمْ ۫ۖ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۶۰﴾
ترجمہ کنز الایمان:''اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں اور وہی سنتا جانتا ہے''( پارہ ۲۱'سوره عنکبوت 'آیت ۶۰)

مزید فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالیٰ نے تمہیں مال جمع کرنے اور خواہشات کے پیچھے چلنے کا حکم نہیں دیا جو شخص دینار جمع کرکے اس سے فانی دنیا کا ارادہ کرے تو (یاد رکھو) زندگی اﷲ تعالیٰ کے قبضے میں ہے سنو ! میں دینار اور درھم جمع نہیں کرتا اور نہ ہی کل کے لئے کھانا روک رکھتا ہوں۔     (المطالب العالیۃ جلد ۳ ص ۱۵۹' ۱۶۰ حدیث ۳۱۴۰)

حضرت سیدنا ابو درداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اﷲ (عزوجل) کے برگزیدہ نبی حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے رب (عزوجل) سے اس قدر ڈرتے کہ ایک میل کے فاصلے سے ان کے دل سے جوش کی آواز آتی۔

نیز حضرت سیدنا مجاہد رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام چالیس دن حالتِ سجدہ میں روتے رہے اورآپ (علیہ السلام)نے سر نہ اٹھایا حتی کہ آپ(علیہ السلام)کے آنسوؤں سے گھاس اگ آئی یہاں تک کہ اس نے آپ(علیہ السلام)کے سر کو ڈھانپ لیا۔ اس پر آواز دی گئی اے داؤد علیہ السلام ! کیا آپ بھوکے ہیں کہ آپ کو کھانا کھلایا جائے یا پیاسے ہیں کہ پانی پلایا جائے یاآپ کے پاس کپڑے نہیں کہ آپ کو کپڑے دیئے جائیں ۔ 

یہ سن کر آپ  نے ایسی درد ناک چیخ ماری کہ آپ (علیہ السلام)کے خوف کی گرمی سے لکڑی جل گئی پھر اﷲ تعالیٰ نے ان پر توبہ اور مغفرت نازل فرمائی توانہوں نے عرض کی یا اﷲ(عزوجل)! میرے قصور کو میری ہتھیلی میں لکھ دے چنانچہ وہ بات جسے آپ(علیہ السلام)اپنا قصور سمجھتے تھے آپ کی ہتھیلی میں لکھ دیا گیا لہٰذا آپ(علیہ السلام)جب بھی کھانے یا پینے یا کسی دوسرے کام کے لئے ہتھیلی کھولتے تو اسے دیکھ کر رونا شروع کردیتے ۔راوی فرماتے ہیں کہ اگر آپ (علیہ السلام)کو پانی کا پیالہ دیا جاتا تو اس کا تہائی حصہ خالی ہوتا چنانچہ جب آپ(علیہ السلام) اسے پکڑتے اور اپنی لغزش کو دیکھتے تو ہونٹوں تک لے جانے سے پہلے آنسوؤں سے پیالہ بھرجاتا۔
Flag Counter