کو غفلت اور ٹال مٹول میں گزار دوگے تو تمہیں اچانک اچک لیا جائے گا حالانکہ اس وقت تمہارا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوگا اور حسرت وندامت تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گی پس اگر تم خوف کی کمزوری کے باعث اس بات کو اختیار نہ کرو جس کی طرف ہم نے تمہاری راہنمائی کی ہے اور اچھے خاتمہ کے سلسلے میں ہم نے جو کچھ بتایا ہے اگر وہ بھی تمہارے لئے کافی نہ ہو تو آؤ اب ہم تمہارے سامنے خوف کھانے والے بعض حضرات کے حالات بیان کرتے ہیں ہمیں امید ہے کہ اس سے تمہارے دل کی سختی دور ہوگی کیونکہ یہ بات تمہارے نزدیک بھی ثابت ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام ' اولیاء عظام اور علماء کرام ث کی عقل' عمل اور اﷲ تعالیٰ کے ہاں ان کا مقام ومرتبہ تمہاری عقل' عمل اور مقام سے ہرگز کم نہیں تو اگر چہ تم نے ان کے احوال کو نہیں دیکھاتب بھی یہ تو سوچو کہ وہ لوگ بہت زیادہ خوف کیوں کھاتے تھے اور ان کا رونا اور غم کیوں کر زیادہ تھا حتی کہ بعض چیخیں مارتے اور بعض بیہوش ہوجاتے اور بعض غش کھا کر گرپڑتے تھے بلکہ بعض تومارے خوف کے انتقال کرجایا کرتے تھے ۔
اور اگر ان کے حالات بھی تمہارے دل پر اثر انداز نہ ہوں تو تعجب کی بات نہیں کیونکہ غافل لوگوں کے دل پتھروں کی طرح ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت کیونکہ بعض تو پتھر بھی ایسے ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور ان میں سے بعض پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکل جاتا ہے اور کچھ پتھر اﷲ تعالیٰ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اﷲ تعالیٰ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔