Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
210 - 325
کو غفلت اور ٹال مٹول میں گزار دوگے تو تمہیں اچانک اچک لیا جائے گا حالانکہ اس وقت تمہارا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوگا اور حسرت وندامت تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گی پس اگر تم خوف کی کمزوری کے باعث اس بات کو اختیار نہ کرو جس کی طرف ہم نے تمہاری راہنمائی کی ہے اور اچھے خاتمہ کے سلسلے میں ہم نے جو کچھ بتایا ہے اگر وہ بھی تمہارے لئے کافی نہ ہو تو آؤ اب ہم تمہارے سامنے خوف کھانے والے بعض حضرات کے حالات بیان کرتے ہیں ہمیں امید ہے کہ اس سے تمہارے دل کی سختی دور ہوگی کیونکہ یہ بات تمہارے نزدیک بھی ثابت ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام ' اولیاء عظام اور علماء کرام ث کی عقل' عمل اور اﷲ تعالیٰ کے ہاں ان کا مقام ومرتبہ تمہاری عقل' عمل اور مقام سے ہرگز کم نہیں تو اگر چہ تم نے ان کے احوال کو نہیں دیکھاتب بھی یہ تو سوچو کہ وہ لوگ بہت زیادہ خوف کیوں کھاتے تھے اور ان کا رونا اور غم کیوں کر زیادہ تھا حتی کہ بعض چیخیں مارتے اور بعض بیہوش ہوجاتے اور بعض غش کھا کر گرپڑتے تھے بلکہ بعض تومارے خوف کے انتقال کرجایا کرتے تھے ۔

اور اگر ان کے حالات بھی تمہارے دل پر اثر انداز نہ ہوں تو تعجب کی بات نہیں کیونکہ غافل لوگوں کے دل پتھروں کی طرح ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت کیونکہ بعض تو پتھر بھی ایسے ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور ان میں سے بعض پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکل جاتا ہے اور کچھ پتھر اﷲ تعالیٰ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اﷲ تعالیٰ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔
فصل ۔۔۔۔۔۔ ۸

          خوف کے سلسلے میں انبیاء کرام اور فرشتوں کے احوال (علیہم السلام):
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس فصل میں تلقینِ غزالی علیہ الرحمۃ کچھ اس طرح وارد ہوتی ہے ۔

حضرت سیدتنا عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جب ہوا میں تبدیلی ہوتی اور سخت آندھی چلتی تو نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرئہ انور کارنگ متغیرّ ہوجاتا چنانچہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور حجرئہ مبارک میں چکر لگاتے کبھی اندر جاتے کبھی باہر تشریف لاتے۔ (صحیح مسلم جلد اول ص ۲۹۴ کتاب صلوٰۃ الاستسقاء) یہ سب کچھ خوفِ خداوندی کی وجہ سے تھا۔

ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ آلہٖ وسلم نے سوره واقعہ کی ایک آیت تلاوت فرمائی تو خوفِ خدا عزّوجل سے بیہوش ہوگئے۔   (شعب الایمان جلد اول ص ۵۲۲' حدیث ۹۱۷)

نیز اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
Flag Counter