Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
209 - 325
ہمیشہ روزے سے رہے۔ اور کھانے کی مقدار یہ ہے کہ پیٹ کے تہائی حصے سے زیادہ نہ ہو اور جنس غذا کے سلسلے میں اس بات کو پیش نظر رکھے کہ لذیذ کھانے تلاش نہ کرے بلکہ جیسا کھانا مل جائے اسی پر قناعت کرے اگر تم ان تین باتوں پر قادر ہو جاؤ اور لذیذ کھانوں کی خواہشات سے چھٹکارا پالو تو اس کے بعد تم شبہات کو چھوڑنے پر قادر ہو جاؤ گے اور تمہارے لئے ممکن ہوگا کہ حلال سے ہی کھاؤ کیونکہ حلال کم ملتا ہے اورنفسانی خواہشات کی تکمیل بھی نہیں کرتا۔

لباس :

جہاں تک لباس کا تعلق ہے تو اس سے غرض یہ ہونی چاہئے کہ گرمی سردی کو دور کیا جائے اور ستر ڈھانپا جائے چنانچہ جو چیز تم سے سردی کو دور کرے چاہے ایک دمڑی (معمولی رقم) کی ہی کیوں نہ ہو تو اس کے علاوہ کی طلب فضول ہے اور وقت کا ضیاع ہے اس طرح تم ہمیشہ مشغول ہوجاؤ گے اور ایک مرتبہ اس کے حصول کے لئے کمانے کی مشقت برداشت کرو گے تو پھر طمع پیدا ہوگی حرام سے ملے یا شبہات سے اس کی کوئی پرواہ نہ ہوگی جس چیز سے تم گرمی اور سردی کو اپنے بدن سے دور کرسکتے ہو ان سب کو اسی ایک بات پر قیاس کرلو۔

اب وہ چیز جس سے لباس کا مقصود حاصل ہوجاتا ہے اگر تم اس کے کم قیمت یا معمولی ہونے کی وجہ سے اسے کافی نہ جانو تو تمہارے لئے ٹھہرنا مشکل ہوجائے گا بلکہ تم ان لوگوں میں سے ہوجاؤگے جن کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے۔



رہائش :

نیز رہائش کی صورت بھی یہی ہے کہ اگر تم مقصود پر اکتفا کرو تو چھت کے طور پر آسمان اور بچھونے کے طور پر زمین تمہارے لئے کافی ہے اور اگر تم پرسردی یا گرمی کا غلبہ ہوجائے تو مساجد میں چلے جاؤ اور اگر تم خاص قسم کی رہائش کے طالب ہو ئے تو بات لمبی ہوجائے گی اور تمہاری زندگی کا اکثر وقت اسی میں صرف ہوجائے گا اور یہ زندگی ہی تمہارا سرمایہ ہے پھر اگر تمہیں یہ میسر آجائے اور تم اس دیوار سے زیادہ بناؤ جو تمہارے اور لوگوں کے درمیان پردے کے لئے کافی ہے اور چھت جو بارش سے بچاتی ہے اس سے بھی تجاوز کرو اور دیواریں بلند کرکے چھتوں کو بھی مزین کرنے لگو تو ایسے گڑھے میں گرو گے جس سے نکلنا مشکل ہوگا۔

چنانچہ اپنی تمام ضروریات کو اسی پیمانے پر پرکھو ۔دیکھو! اگر تم ضرورت پر اکتفا کروتو اﷲ تعالیٰ کے لئے تمہیں فراغت حاصل ہوجائے گی اور آخرت کے لئے زادراہ لینے پر قادر ہوجاؤ گے اس طرح اچھے خاتمے کی تیاری بھی ہوجائے گی اور اگر تم ضرورت کی حد سے تجاوز کرکے خواہشات کی وادیوں میں بھٹکتے پھروگے تو تم اپنے مقصد سے دور ہٹ جاؤ گے اور اﷲ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ تمہیں کہاں ہلاک کرتا ہے چنانچہ تم اس شخص سے یہ نصیحت قبول کرو جو اس نصیحت کا تم سے زیادہ محتاج ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے کہ تدبیر اور زادِراہ کے حصول اور احتیاط کے لئے یہی چھوٹی سی زندگی ہے اگر تم اس