ترجمہ: ''جو شخص نیکی کا ارادہ لیکن اسے نہ کر سکے اسکے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے '' (صحیح مسلم ج اول ، ص ۷۸، کتاب الایمان) ۔
کیونکہ دل کا ارادہ ہی دراصل نیکی کی طرف جھکاؤ ہے اور دنیوی محبت سے دوری کی بنیاد ہے اور یہ دوری تمام نیکیوں کی اصل ہے اور جب بندہ عمل کر لیتا ہے تو نیکی کی تکمیل اور اسے پختہ کر لیتا ہے۔ (گویا نیکیوں پر مداومت دل کو درست کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو دعوت اسلامی مدنی ماحول میں رہ کر با آسانی حاصل کی جاسکتی ہے)۔
دیکھئے قربانی کا خون بہانے کا مقصد خون اور گوشت کا حصول نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ دل دنیا کی محبت سے پھر جائے اور اللہل کی رضا مندی کو حاصل کر نے کیلئے مال خرچ کیا جائے اور یہ صفت اس وقت حاصل