Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
208 - 325
اور بیچنے والا لازماً مبیع (جس چیز کا سودا ہوا) سے اعراض کرتا اور دل سے اس کی محبت کو نکال باہر کرتا ہے اور جو چیز اس کے عوض لیتا ہے اس کی محبت کے لئے دل کو خالی کرلیتا ہے اور اس قسم کی حالت بعض حالات میں دل پر غالب آجاتی ہے لیکن اس حالت میں روح پرواز نہیں کرتی پس لڑائی کی صف اسی حالت میں روح کے نکلنے کا سبب ہے۔

لیکن یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو غلبہ' غنیمت اور بہادری کی شہرت کا قصدنہ کرے اور جس کی یہ حالت ہو اگرچہ وہ میدان جنگ میں قتل ہوجائے وہ اس قسم کے رتبہ کو نہیں پاسکتا جیسا کہ اس پر احادیث دلالت کرتی ہیں۔ (صحیح بخاری' جلد اول ص ۳۹۴ کتاب الجہاد)

برے خاتمے سے حفاظت :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسکے بعد تلقین غزالی علیہ الرحمۃ کچھ اسطرح سے ہے ۔

جب تمہارے سامنے برے خاتمے کا معنی واضح ہوگیا اور اس میں جس بات کا خوف ہے وہ بھی معلوم ہوگئی تو تمہیں اچھے خاتمے کی تیاری میں مشغول ہوجانا چاہئے پس ہمیشہ اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرو اپنے دل سے دنیا کی محبت نکال دو گناہوں سے اپنے اعضاء کی حفاظت کرو اور دل کو بھی اس قسم کی سوچ سے محفوظ رکھو اور جس قدر ممکن ہوگناہوں کو دیکھنے اور گناہگاروں کے مشاہدے سے بچو کہ یہ بات بھی دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور تمہارا فکر اور خیال اس طرح پھر سکتا ہے۔

اس کام کو آئندہ پر نہ ٹالنا اور یوں نہ کہنا کہ عنقریب جب خاتمے کا وقت آئے گا تو میں اس کے لئے تیاری کرلوں گا کیونکہ تمہارا ہر سانس تمہارا خاتمہ ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اسی سانس میں تمہاری روح نکال لی جائے۔

لہٰذا ہر لحظہ دل کی نگرانی کرو اور اسے بیکار نہ چھوڑو ہوسکتا ہے وہ لحظہ تمہارے خاتمے کا ہو کیونکہ ممکن ہے اس میں تمہاری روح پرواز کرجائے اور یہ تو بیداری کی حالت میں ہے اورجہاں تک نیند کا تعلق ہے تو تمہیں ظاہری اور باطنی طہارت کے بغیر سونے سے پرہیز کرنا چاہئے اور تمہیں نیند ایسی حالت میں آئے کہ تمہارے دل پر اﷲ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے ذکر کا غلبہ ہو۔



میں سوجاؤ ں یا مصطفیٰ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  کہتے کہتے 

کھلے آنکھ صلِّی علیٰ کہتے کہتے 



اور اس سے ہماری مراد زبانی ذکر نہیں کیونکہ محض زبان کی حرکت کمزور اثر رکھتی ہے اور یہ بات جان لو کہ نیند کے وقت تمہارے دل پر وہی بات غالب ہوگی جو پہلے غالب تھی اور نیند کے اندر بھی وہی بات غالب ہوگی جو نیند سے پہلے غالب تھی اور جاگتے وقت بھی وہی بات غالب ہوگی جو نیند کی حالت میں تھی۔
موت اور قیامت کے دن اٹھنا سونے اور بیداری کی طرح ہیں جس طرح بندہ انہی خیالات پر سوتا ہے جو بیداری کی حالت میں اس پر غالب تھے اور انہی خیالات پر بیدار ہوتا ہے جو نیند کی حالت میں تھے اسی طرح بندہ اسی حالت پر مرتا ہے جو زندگی کی تھی اور جس پر وہ فوت ہوا اسی پر اٹھے گا۔

اور تمہیں قطعی طور پر یہ بات جاننا چاہئے کہ موت اور اس کے بعد اٹھنا تمہاری دو حالتیں ہیں جس طرح نیند اور بیداری تمہارے احوال میں سے دو حالتیں ہیں لہٰذا اگر عین الیقین اور نور بصیرت کے ساتھ اس بات کا مشاہدہ نہیں کرسکتے تو کم ازکم دل کے اعتقاد کے ساتھ ہی اس بات کا یقین کرلونیز اپنے سانسوں اور لحظوں کی حفاظت ونگرانی کرو اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اﷲ تعالیٰ سے غافل نہ ہو کیونکہ اتنی احتیاط کرنے کے باجود بھی بہت بڑا خطرہ ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو کیا حالت ہوگی ؟اور تمام لوگ ہلاک ہونے والے ہیں سوائے علماء کے اور علماء بھی وہ محفوظ رہیں گے جو عمل کرنے والے ہیں اور عمل کرنے والوں میں سے بھی صرف مخلص لوگ ہی ہلاکت سے محفوظ رہیں گے اور مخلص لوگوں کو بھی بہت بڑا خطرہ ہے کہ نجانے انکی عبادتیں قبول کی جاتی ہیں یا نہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیدنا امام غزالی ان تمام احتیا طوں کی اصل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

اور جان لو کہ تمہیں یہ بات اسی وقت میسر آسکتی ہے جب تم ضرورت کے مطابق دنیا پر قناعت کرو اور تمہاری ضرورت صرف کھانا' لباس اور رہائش ہے باقی سب زائد ہے کھانے میں سے بھی ضرورت صرف اتنی ہے کہ تمہاری پیٹھ سیدھی رہے اور جان بچی رہے لہٰذا تمہارا کھانا ایسا ہونا چاہئے جیسے وہ شخص کھاتا ہے جسے کھانے پر مجبورکر دیا جائے اسکا اندازہ اسطرح ہو سکتا ہے کہ کھانے کی خواہش قضائے حاجت کی خواہش سے زیادہ نہ ہو۔

کیونکہ کہ پیٹ میں کھانا داخل کرنے اور اسے نکالنے میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں فطری ضرورتیں ہیں۔ اور جس طرح انسان قضائے حاجت کی طرف مجبوراً متوجہ ہوتا ہے اور یہ توجہ اتنی نہیں ہوتی کہ جو دل کو اسی میں مشغول کردے اسی طرح کھانا کھانے میں دل نہیں لگانا چاہئے اور جان لو کہ اگر تمہاری توجہ اسی چیز کی طرف ہو جسے تم اپنے پیٹ میں داخل کرتے ہو تو تمہاری قیمت وہی ہوگی جو تمھارے پیٹ سے نکلتا ہے۔

البتہ جب کھانا کھانے سے مقصود اﷲ تعالیٰ کی عبادت پر قوت حاصل کرنا ہو جس طرح قضائے حاجت سے یہی مقصود ہے تو اس کی علامت تین چیزیں ہیں (۱)کھانے کا وقت (۲)کھانے کی مقدار اور(۳) کھانے کی جنس۔

کھانے کے وقت کے سلسلے کم از کم جس پر اکتفا کیا جاسکتا ہے وہ دن رات میں ایک مرتبہ کھانا ہے لہٰذا چاہیئے کہ
Flag Counter