| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ہمیں ایمان کی فکر لگ گئی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ جس کی کشتی سمندر کے گرداب میں چلی گئی اور اس پر مخالف ہواؤں کا ہجوم ہوگیا اور موجوں میں اضطراب پیدا ہوگیا تو اس کے حق میں نجات' ہلاکت سے بہت دور ہے اور مومن کا دل کشتی سے زیادہ مضطرب ہوتا ہے اور وسوسوں کی موجیں سمندر کی موجوں سے زیادہ ٹکراتی ہیں اور موت کے وقت صرف ان اندیشوں کا خوف ہوتا ہے جو دل میں پیدا ہوتے ہیں اسی سلسلے میں نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔
اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ خَمْسِیْنَ سَنَۃَ حَتَّی لَا یَبْقَی بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ اِلاَّ فَوَاقُ نَاقَۃٍ فَیُخْتَمُ لَہُ بِمَا سَبَقَ بِہِ الْکِتَابُ ۔ (کنز العمال جلد اول ص ۱۲۳ حدیث ۵۸۲)
''ایک انسان ستر سال اہل جنت کے عمل کرتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف اونٹنی کی دو دھاروں کے درمیان وقفے جتنا وقت باقی رہتا ہے تو اس کا خاتمہ پہلے سے لکھے ہوئے ازلی فیصلے کے مطابق ہوتا ہے۔'' اور اونٹنی کی دو دھاروں کے درمیان اتنا وقت نہیں ہوتا جس میں کوئی بدبختی پر مبنی عمل کیا جاسکے۔ بلکہ یہ وہ اندیشے ہیں جو اچکنے والی بجلی کی طرح پیدا ہوتے ہیں۔ حضرت سیدنا سہل رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہورہا ہوں میں نے اس میں تین سو انبیاء کرام علیہم السلام کو دیکھا میں نے پوچھا آپ دنیا میں کس بات سے زیادہ ڈرتے تھے انہوں نے فرمایا برے خاتمے سے' اور اسی بڑے خطرے کے پیش نظر شہادت قابلِ رشک بن گئی اور اچانک موت ناپسند ہوگئی ۔ اچانک موت (کی ناپسندیدگی) اس وجہ سے ہے کہ بعض اوقات اس وقت موت واقع ہوتی ہے جب برے اندیشے پیدا ہوتے اور دل پر غالب آجاتے ہیں اور دل ایسی باتوں سے خالی نہیں مگر یہ کہ کراہت کے ذریعے یا نور معرفت کی وجہ سے اسے دور کردے۔ اور شہادت کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مطلب روح کا ایسی حالت میں نکلنا ہے جب دل میں اﷲ تعالیٰ کی محبت کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے اور دل سے دنیا' اہل ومال' اور تمام خواہشات کی محبت نکل جائے کیونکہ وہ لڑائی کے میدان میں اسی لئے جاتا ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی محبت' اس کی رضا کی طلب اور اپنی دنیا کو آخرت کے بدلے بیچنے پر راضی ہو ا۔ چنانچہ ارشاد ِ باری تعالیٰ (عزوجل) ہے۔
اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ
''بے شک اﷲ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور مال خرید لئے کہ اس کے بدلے میں ان کے لئے جنت ہے۔'' (پارہ ۱۰ سوره توبہ آیت ۱۱۱)