Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
206 - 325
شیخ ابو علی فارندی سے سنا کہ مرید پر شیخ کا حُسنِ ادب واجب ہے اور جو کچھ شیخ کہے اس سے اس کے دل میں انکار نہ ہو' اور نہ زبان سے جھگڑا کرے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے اپنے شیخ ابو القاسم کرمانی سے خواب بیان کیا اور عرض کیا کہ میں نے آپ کو دیکھا آپ مجھے فلاں بات فرمارہے ہیں اور میں پوچھتا ہوں ایسا کیوں ہے۔ فرماتے ہیں یہ سن کر انہوں نے مجھے ایک مہینہ چھوڑ دیا اور مجھ سے کلام نہ کیا اور فرمایا اگر تمہارے دل میں میرے قول کا انکار نہ ہوتا تو خواب میں یہ بات تمہاری زبان پر جاری نہ ہوتی ۔۔۔۔۔۔ اور فی الواقع ان کا قول درست ہے کیونکہ جو کچھ حالتِ بیداری میں انسان کے دل پر غالب ہوتا ہے خواب میں بہت کم اس کے خلاف دیکھتا ہے علم معاملہ میں خاتمہ کے اسرار کے سلسلے میں ہم اسی قدر بیان کرسکتے ہیں اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ علم مکاشفہ میں داخل ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ اس گفتگو سے تمہارے لئے واضح ہوگیا کہ برے خاتمہ سے امن یہ ہے کہ تم اشیاء کو کسی جہالت کے بغیر اسی طرح دیکھو جس طرح وہ ہیں اور اپنی تمام زندگی کسی گناہ کے بغیر اﷲ تعالیٰ کی اطاعت میں گزارو اور اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ بات محال یا مشکل ہے تو ضروری ہے کہ تم پروہی خوف غالب ہو جو عارفین پر غالب ہے تا کہ اس کے سبب تمہاری آہ و زاری طویل ہوجائے اور تم ہمیشہ غمگین اور پریشان رہو جس طرح ہم انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام ث کے واقعات میں بیان کریں گے تاکہ ہمارا بیان بھی اُن اسباب میں سے ایک سبب بن جائے جو تمہارے دل میں خوف کی آگ بڑھکاتے ہیں۔

آخری سا نس :

اس سے تمہیں معلوم ہوگیا کہ اگر آخری سانس جس میں روح نکلتی ہے سلامت نہ ہو تو تمام عمر کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں اور قلبی خیالات کی موجوں کے اضطراب کی موجودگی میں یہ سلامتی نہایت مشکل ہے اسی لئے حضرت سیدنا مطرف بن عبد اﷲ رحمہ اﷲ فرماتے تھے مجھے ہلاک ہونے والے پر تعجب نہیں ہوتا کہ وہ کیسے ہلاک ہوا بلکہ مجھے نجات پانے والے پر تعجب ہوتا ہے کہ اس نے کیسے نجات پائی۔

اسی لئے حضرت سیدنا حامد اللفاف رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا جب فِرشتے اس مومن بندے کی روح لے کر جاتے ہیں جو بھلائی اور اسلام پر فوت ہوا تو اس سے فرشتوں کو تعجب ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں یہ شخص دنیا سے کیسے نجات پاگیا جب کہ اس میں اچھے ا چھے بگڑ گئے ۔۔۔۔۔۔ اور حضرت سیدنا سفیان ثوری رحمہ اﷲ تعالیٰ ایک دن رو رہے تھے ان سے پوچھا گیا کہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کیوں روتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہم عرصہ دراز تک گناہوں پر روتے رہے پس اب ایمان پر روتے ہیں۔گویا اب